دیکھا جائے تو اس ملک کی ہر سیاسی پارٹی میں کچھ نہ کچھ پڑھے لکھے لوگ ضرور ہوتے ہیں۔کسی پارٹی میں کافی بڑی تعداد میں پڑھے لکھے ہوتے ہیں تو کسی پارٹی میں کچھ کم۔ غور کیجئے تو ملک کی دو ایسی پارٹیاں ہیں جن میں پڑھے لکھے لوگ کافی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کانگریس پارٹی ہے اور دوسری کمیونسٹ پارٹیاں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں شامل ہونے والے بیشتر لوگ سیاست میں آنے سے پہلے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا سماجی یا خاندانی پس منظر بھی دوسروں سے الگ ہوتا ہے۔ اس لئے ان پارٹیوں کے لوگوں میں اندازِ گفتگو دوسروں سے زیادہی بہتر ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے سیاسی حریفوں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے لہجے والفاظ سے متعلق محتاط رہا کرتے ہیں۔ کانگریس کے لوگ خاص طور سے کیونکہ ان کی اکثریت اعلیٰ کاسٹ کی ہوا کرتی تھی۔ یہ ضرور ہے کہ اب ان باتوں کا اتنا خیال نہیں رکھا جاتا جتنا پہلے رکھا جاتا تھا۔
ہم نے ان باتوں کا ذکر کیوں کیا ہے؟ سورت کی ایک ذیلی عدالت کے ذریعہ راہل گاندھی کودوسال کی سزا اورپھر لوک سبھا رکنیت منسوخ کئے جانے کے بعد ہی سے شروع ہوئی ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ بھی کئی طرح سے مضحکہ خیز اور عجیب و غریب ہے۔ یہ قانون پہلے سے موجود تھا اور کئی ایسے فیصلے پہلے بھی کئے جا چکے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاست پوری طرح سے منقسم بلکہ دو الگ الگ رخوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس فیصلے نے سیاست کی بھاشا بھی بدل دی ہے۔ مثال کے طور پر اس فیصلہ کے بعد کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور نہرو خاندان کی ایک رکن پرینکا گاندھی نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’کایر‘ کے نام سے یاد کیا۔ اس طرح کے لفظ پہلے استعمال نہیں ہوتے تھے۔
لوک سبھامیں راہل گاندھی نے بھی کہا کہ بی جے پی نے ایسا فیصلہ کرواکے اپوزیشن کو ایک ’ہتھیار‘ دے دیا ہے۔’کایر‘ اور’ ہتھیار‘ جیسے الفاظ کانگریس کی سیاسی روایتوں میں شامل نہیں تھے۔ جہاں تک لفظ کایر کا سوال ہے،پرینکا نے یہ اس شخص کے لئے استعمال کیا ہے، جسے بی جے پی نے کچھ عرصہ قبل بھگوان جیسا رتبہ دیئے جانے کی کوشش کی تھی۔ گجرات میں تو ان کے بچپن کے ایسے قصے بھی تیار کر لئے گئے تھے جو عام طور پر بھگوان کرشن کے ساتھ منسوب سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے لیڈر کیلئے کایر کا لفظ استعمال کرنا یقیناًدل گردے کا کام ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اب لوگوں خصوصاًسیاسی حریفوں کا ڈر نکل چکا ہے۔ مختلف ایجنسیوں اور چھاپوں کے باوجود اب لوگ نریندر مودی سے کم ہی ڈرنے لگے ہیں۔ ویسے بھی پرینکا اور ان کے شوہر کئی برسوں تک سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیوں کے عتاب کا شکار بھی رہ چکے ہیں اور اس سے باہر بھی نکل آئے ہیں۔
ہتھیار کا لفظ بھی کانگریس کی سیاسی بھاشا کا لفظ نہیں ہے۔ سورت کے ایک کورٹ سے دوسال کی سزا اور اس کے بعد لوک سبھا رکنیت کی منسوخی کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ مودی سرکار نے یہ سب کرکے اپوزیشن کو ایک نیا ہتھیار دے دیا ہے۔ اس لفظ کو سمجھنے کے لئے چند اور باتیں بھی جان لیجئے۔ ممتا بنرجی بہت سے معاملات میں کانگریس سے اور اس سے بھی زیادہ سونیا گاندھی سے متفق نہیں تھیں۔ راہل گاندھی کو تو وہ سیاسی اعتبار سے بہت کم سن سمجھتی تھیں۔ سونیا گاندھی سے توخیربعد میں انہوں نے کچھ ملاقاتیں بھی کی تھیں ، لیکن راہل گاندھی کو انہوں نے کبھی توجہ کے قابل نہیں سمجھا۔ سماج وادی پارٹی کے آنجہانی لیڈر ملائم سنگھ یادو نے بھی کانگریس کو ایک سطح سے اوپر نہیں جانے دیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ جب سونیا گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی کوشش جاری تھی تو ملائم سنگھ ہی اس کے سب سے بڑے مخالف تھے، بعد میں کانگریس کے ان مخالفین میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے صدر کے سی آر بھی شامل ہو گئے تھے۔ سب سے بعد میں اس میںاروند کیجریوال بھی شامل ہوگئے تھے۔کے سی آر بھی کانگریس کے مخالف تھے ، کیونکہ وہ تلنگانہ میں کانگریس کو اپنا مد مقابل سمجھتے تھے۔ اروند کیجریوال نے تو دہلی سرکار کانگریس کو ہرا کر ہی حاصل کی تھی۔ اس لئے جب بھی اپوزیشن ایکتا کی بات ہوتی تھی تو مودی شاہ ٹیم مسکرا کر رہ جاتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ایکتاکی یہ باتیں بہت دیر پا ثابت نہیں ہو سکتیں۔ کسی نہ کسی مقام پر ان کو شکست ہو سکتی ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ ایک تو ممتا بنرجی نے برسوں کی جدو جہد کے بعد بنگال میں اپنی اور ٹی ایم سی کی جو طاقت بنا لی ہے ، وہ اپنی تمام سیاسی کمائی ایکتا کے نام پر کانگریس کی گود میں نہیں پھینک سکتیں۔ اسی طرح اکھلیش یادو بھی اپنے والد کی تمام سیاسی کمائی اور سماج وادی پارٹی کی ایک مضبوط جماعت بچانے کے بعد اپوزیشن ایکتا کے نام پر قربان نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اس بیچ دریا کابہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ ممتا بنرجی نے دیکھا کہ بی جے پی تو بنگال ہی میں ان کی پارٹی کو ملیامیٹ کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ یہی ماجرا کے سی آر کے ساتھ بھی ہوا۔ انہیں لگا کہ بی جے پی اسے بھی سیاسی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔ اروند کیجریوال کو بھی اب معلوم ہوا ہے کہ ان کی اصل مخالف کانگریس سے زیادہ بی جے پی ہے۔ چنانچہ جب راہل گاندھی کی رکنیت منسوخ کی گئی تو اس کے خلاف پہلا احتجاج ممتا بنرجی کا آیا۔ کے سی آر نے بھی اس کی شدید مذمت کی۔ حد یہ ہے کہ اروند کیجریوال نے بھی اسے فسطائی عمل قرار دیا۔ اس لئے رکنیت کی منسوخی اپوزیشن کی ایکتا کیلئے ہتھیار ہی ثابت ہو رہی ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اب اپوزیشن کی ایکتا مسلّم ہو گئی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کی قیادت میں کانگریس کے نام پر جو چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں ، ان میں قرار واقعی کمی ہو چکی ہے۔ اسی طرح راہل گاندھی کے بارے میں بھی اپوزیشن زیادہ سمجھداری سے کام لینے لگی ہے۔
مودی سرکار کی تادیبی کارروائی کی کوشش بھی ناکام ہو رہی ہے۔ یہ شاید پہلی بار ہوا تھا کہ تقریباً ۲۹ ؍اپوزیشن لیڈر صف بنا کر ای ڈی ڈائرکٹوریٹ کے دفتر پر پہنچے، ان کا ڈائرکٹر سے مطالبہ تھا کہ اگر ہمارے خلاف کوئی چارج ہے تو آپ بلا شبہ ہم سے تفتیش کیجئے لیکن ہمیں اور عدالت کو بتائیے کہ آپ کو تفتیش میں کیا ملا۔ یہ ہمیں بار بار تنگ کرنے کی کوشش مت کیجئے۔ لیکن جب وہ دفتر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ دفتر کے چاروں طرف ۱۴۴؍کا نفاذ ہے۔ ہمیں یہ جان کر تعجب ہوا کہ اروند کیجریوال نے دہلی اسمبلی کے فرش پر کہا کہ’ ’نریندر مودی اس ملک کے سب سے بھرشٹ اور سب سے کم تعلیم یافتہ پی ایم ہیں۔ ‘‘یہ سب اسمبلی کے ریکارڈ پر محفوظ ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی عوام کے سامنے آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔




