؍۲۶ فروری کو رائے پور میں کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جب راہل گاندھی نے یہ کہا تھا کہ اُن کے پاس گھر نہیں ہے تب اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ رہا ہوگا کہ ٹھیک ایک ماہ بعد اُنہیں سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا نوٹس مل جائیگا۔ مارچ کے آخری ہفتے میں گجرات کی ایک عدالت نے ہتک عزت کے ایک کیس میں اُنہیں مجرم قرار دیا اور دو سال کی سزا سنائی جس کے نتیجہ میں لوک سبھا کی رُکنیت چھن گئی اور سرکاری رہائش گاہ پر استحقاق ختم ہوگیا۔ اب اگر وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں تو صورت حال بدل سکتی ہے مگر وہ اور کانگریس پارٹی کے ذہن میں کچھ اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا نہیں گیا ہے۔ اگر اپیل نہیں کی گئی اور فیصلے اور سزا پر روک نہیں لگی تو ۲۲؍ اپریل کے بعد راہل جیل بھی جاسکتے ہیں۔ کیا یہی اسٹراٹیجی ہے اُن کی اور پارٹی کی؟ یہ ہم نہیں جانتے مگر جیسے ہی لوک سبھا کی رُکنیت ختم ہوئی، ویسے ہی نوٹس آگیا کہ اب آپ لوک سبھا کے رُکن نہیں ہیں اسلئے سرکاری رہائش گاہ خالی کردیں۔ اس کا راہل نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ جی ہاں، حکم کی تعمیل ہوگی۔
وہ کب ایسا کریں گے یہ ہم نہیں جانتے مگر زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ وہ سرکاری رہائش گاہ کو خیرباد کہہ دیں گے کیونکہ تبھی اُن کی مظلومیت دیرپا نقش قائم کرپائے گی۔ مگر، اس سے قبل کہ ایسا ہو، کئی اہم شخصیات نے اُنہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی ہے۔ ملکارکن کھرگے تو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ راہل اُن کے ساتھ رہ سکتے ہیں یا اگر راہل چاہیں تو وہ اُن کیلئے اپنی رہائش گاہ خالی کردیں گے۔ راہل نے ا س کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموش ہیں اور اُن کی خاموشی کافی معنی خیز ہے جس کی وجہ سے بی جے پی سناٹے میں ہے۔ اہل بی جے پی نہایت بے چین ہیں اور چاہتے ہیں کہ راہل اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں۔ یہ ’’ہردے پریورتن‘‘ راہل کو سزا مل جانے کے بعد کا ہے کیونکہ پارٹی کے ارباب حل و عقد دیکھ رہے ہیں کہ ’’ڈِسکوالیفائڈ ایم پی‘‘ ماضی کے ’’کوالیفائڈ ایم پی‘‘ سے زیادہ طاقتور ہے۔ اہل بی جے پی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔
خیر، صدرِ کانگریس ملکارجن کھرگے واحد لیڈر نہیں ہیں جنہوں نے راہل کو رہائش گاہ کی پیشکش کی ہے۔ کانگریس کے سینئر اور قد آور لیڈر دگ وجے سنگھ نے بھی اس فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ’’راہل جی، میرا گھر آپ کا گھر ہے۔‘‘ یوپی کے سینئر کانگریس لیڈر اجے رائے نے، جو سابق رکن اسمبلی ہیں، وارانسی میں اپنے گھر کے باہر لکھ کر لگا دیا ہے کہ ’’میرا گھر راہل گاندھی کا گھر۔‘‘ ہماری اطلاعات کے مطابق چنڈی گڑھ کے کم از کم دس کانگریسیوں نے اپنے اپنے طور پر ملکارجن کھرگے کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہ راہل گاندھی کو دینا چاہتے ہیں۔دہلی کانگریس سیوا دل کی خواتین ونگ کی صدر راج کماری گپتا نے اعلان کیا ہے کہ اُنہوں نے اپنا گھر راہل کے نام کردیا ہے۔ اس دوران بہتیرے کانگریسی لیڈر یہ کہہ چکے ہیں کہ راہل نے عوام کے دلوں میں گھر بنالیا ہے۔ اس میں غلط کچھ بھی نہیں ہے۔ فی الحال راہل گاندھی کو ملنے والی حمایت غیر معمولی ہے۔ اُنہوں نے اعلیٰ عدالت میں اپیل نہ کرکے جو تجسس پیدا کیا ہے وہ بھی غیر معمولی ہے۔ لوگ باگ حیران ہیں کہ جسے پپو سمجھتے تھے وہ بلا کا ذہین نکلا۔




