حیدرآباد : وزیراعظم نریندر مودی کے دورے تلنگانہ کے موقع پر شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دوسرے اضلاع میں ان کے خلاف فلیکسی اور بیانرس لگاتے ہوئے احتجاج کرنا روایت بنتی جارہی ہے ۔ نریندر مودی 12 نومبر کو تلنگانہ کے دورے پر پہونچ رہے ہیں جہاں وہ ضلع پداپلی کے راما گنڈم میں راما گنڈم فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلس لمٹیڈ (RFCL) کو قوم کے نام معنون کریں گے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف شہر حیدرآباد کے جوبلی ہلز چیک پوسٹ کے پاس ایک فلیکسی لگاتے ہوئے ’ مودی نو انٹری ‘ تحریر کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ بافندوں کی جانب سے چک پوسٹ کے علاوہ شہر کے دوسرے علاقوں میں اس طرح کے پوسٹرس لگائے گئے ہیں ۔ ایک طرف وزیراعظم کے خلاف فلیکسی لگائے گئے ہیں دوسری طرف کمیونسٹ جماعتوں ، مزدور تنظیموں ، طلبہ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے راما گنڈم میں سیاہ پرچم کے ذریعہ مودی کی مخالفت کرنے اور احتجاج کرنے کی دھمکیاں دینے سے ریاست میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہونچ رہی ہیں ۔ واضح رہے کہ جولائی کے دوران حیدرآباد میں بی جے پی کا قومی اجلاس منعقد ہوا تھا تب ٹی آر ایس نے شہر کے کئی مقامات پر ’بائے بائے مودی ‘ کے نام سے فلیکسی اور پوسٹرس لگائے تھے ۔ پھر دوبارہ وزیراعظم کے دورے کے خلاف احتجاج کرنے کے اعلانات سے بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں اور مزدور تنظیموں میں لفظی جنگ دیکھی جارہی ہے اور ہینڈلوم پر عائد کردہ 5 فیصد جی ایس ٹی سے دستبرداری اختیار کرنے کا پوسٹرس لگاتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔




