جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں پولیس نے ایک فلم کے ٹیزر کے بارے میں موصول ہونے والی شکایتوں کے بعد قانونی ماہرین سے رابطہ کیا ہے کیونکہ اس ٹیزر کی وجہ سے ریاست میں تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
نئی فلم ’دی کیرالہ سٹوری‘ کے اس ٹیزر کے بارے میں ایک اداکارہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک کردار ریاست کی ان 32,000 خواتین میں سے ایک ہے جنھیں ’اسلامی دہشت گرد‘ بنا دیا گیا تھا۔
ریاست کے کچھ سیاستدانوں نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک صحافی نے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر اس کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے صحافی بی آر اروندکاشن کی جانب سے لکھا گیا یہ خط پولیس کو مزید تفتیش کے لیے بھیج دیا ہے۔
کیرالہ کے دارالحکومت تھروننتا پورم کے پولیس کمشنر سپرجن کمار نے کہا کہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور خط پر قانونی رائے مانگی گئی ہے کہ اس سلسلے میں کیا کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔‘
ٹیزر میں ایک برقع پوش خاتون یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ’میرا نام شالنی اننی کرشنن تھا اور میں نرس بننا چاہتی تھی۔‘
’اب میں فاطمہ ہوں، دولت اسلامیہ کی دہشت گرد ہوں اور افغانستان کی ایک جیل میں ہوں۔‘
وہ لڑکی مزید کہتی ہے کہ ’میرے جیسی 32 ہزار لڑکیاں ہیں جنھیں شام اور یمن کے صحراؤں میں دفن کیا گیا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہے کہ ’کیرالہ میں عام لڑکیوں کو خوفناک دہشت گردوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جان لیوا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور وہ بھی کھلے عام۔‘
ٹیزر کو گذشتہ چھ دنوں میں یوٹیوب پر 440,000 سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے اور اس پر تنقید بھی ہو رہی ہے اور بعض لوگ اس تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ اداکارہ ادا شرما نے ’ٹرو سٹوری ہیش ٹیگ‘ کے ساتھ فلم کا ٹیزر ٹویٹ کیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر وپل شاہ نے بی بی سی کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
صحافی ںامسٹر اروندکشن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے تحقیقات کے ساتھ ساتھ فلم سازوں سے ثبوت پیش کرنے کو کہا ہے کیونکہ وہ ٹیزر میں کیے گئے دعووں سے نالاں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ کیسز ہو سکتے ہیں لیکن 32 ہزار ایک ناقابل یقین تعداد ہے۔‘
ایک میڈیا پروڈکشن کمپنی ِ’سٹی میڈیا‘ کے ساتھ 2021 کے انٹرویو میں فلم کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کی جانب سے کیرالہ اسمبلی کو دیے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی یہ تعداد دی گئی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر چانڈی نے کہا تھا کہ ’ہر سال تقریباً 2,800 سے 3,200 لڑکیاں اسلام قبول کر رہی ہیں۔‘
تاہم، حقائق کی جانچ کرنے والی نیوز ویب سائٹ آلٹ نیوز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’اس دعوے کو درست قرار دینے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے‘۔
ویب سائٹ نے پتہ لگایا کہ مسٹر چانڈی نے 2012 میں کہا تھا کہ ریاست میں 2006 سے اب تک 2,667 نوجوان خواتین نے اسلام قبول کیا ہے تاہم کسی طرح کی سالانہ تعداد کا ذکر نہیں کیا تھا۔
سنہ 2016 میں، کیرالہ کے 21 افراد کے ایک گروپ نے جہادی عسکریت پسند گروپ اسلامک سٹیٹ میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑ دیا تھا۔




