دنیا جانتی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، اس کے باوجود جنگیں ہوتی ہیں اوریہ سلسلہ تا ابد جاری رہے گا، کبھی داخلی شورشوں کے نام پر تو کبھی فوجی برتری کے زعم میں ۔جدیدترین ہتھیاروں سے بھری پُری بستیوں کو اجڑتے دیر نہیں لگتی۔ پلک جھپکتے خاک وخون میں غلطاں ہوجاتی ہیں، لیکن انہیں بنانے اور بسانے میں ایک مدت درکار ہوتی ہے جبکہ اپنوں کے کھونے کا غم بھلائے نہیں بھولتا ہے، اس لئے دنیا کی کوشش حتی الامکان جنگ کو ٹالنے کی ہوتی ہے کیونکہ فتح ہویا شکست، فریقین کو بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا پڑتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد یہی ہوا۔ عالمی صف کے لیڈر سرجوڑ کر بیٹھے تو ’لیگ آف نیشن ‘ کا جنم ہوا۔ جب یہ ادارہ دوسری جنگ عظیم کو روکنے میں ناکام رہا تو دنیا میں امن وامان قائم رکھنے کے لئے ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو اقوام متحدہ نے جنم لیا۔ اس ادارے کا زور کمزور ممالک پر تو چلتا ہے لیکن یہ عالمی طاقتوں کی دخل درمعقولات شر انگیزیوں پر لگام لگانے میں ناکام رہا ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے کیونکہ جب کسی عالمی طاقت پر من مانی کرنے کا بھوت سوار ہوتا ہے تو وہ آگاپیچھا نہیں سوچتا۔ ۱۹۹۱ء سے پہلے دنیا میں دوسپرپاورتھے، امریکہ اور سوویت یونین، ان کی رقابت ڈھکی چھپی نہیں تھی لیکن دوسرے کے پھٹے میں ٹانگ اَڑانے میں امریکہ کا ریکارڈ بے حد خراب رہا ہے۔ کم ہی ایسے ملک ہوں گے جو اس کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہے ہو ۔ سپرپاوری کے زعم میں اس نے نہ جانے کتنی تانا شاہی اور جمہوری حکومتوں کا تختہ پلٹا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات اس طرح کی مداخلت کی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ برسوں پہلے ویتنام میں اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردانہ حملے کی پاداش میں افغانستان پر تھوپی جانے والی جنگوں میں لاکھوں خون خرابے کے بعد اسےجس ذلت آمیز طریقے پر ان دونوں ممالک سے ناکام ونامراد لوٹنا پڑا اس سے ایک دنیا واقف ہے۔ اسے اتفاق ہی کہئے کہ افغانستان ، سوویت یونین کے لئے بھی ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ اس کے زوال کی بنیادی وجہ روسی فوج سے لوہا لینے والے افغان مجاہدین کو امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ذریعے دی جانے والی ہتھیاروں کی کھیپ تھی جس کے سامنے دشمن فوج نہیں ٹِک سکی۔ سوویت یونین کی سپرپاوری کا بھرم ٹوٹنے سے اس کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگی۔ یکے بعد دیگرے اس میں شامل ریاستوں نے آزادی کا پرچم لہرایا، اوراپنی اپنی آزاد حکومتیں بنالیں۔ یوکرین بھی ایسی ہی ایک ریاست ہے۔
یوکرین ، پوتن کی آنکھوں میں شروع سے کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا کیونکہ وہاں روسی نسل کے لوگوں کی آبادی دوسری آزاد مملکتوں کے مقابلے زیادہ تھی۔ یہ لوگ علاحدگی پسند اور روس حامی تھے اور اس کی پشت پناہی میں یوکرینی فوجوں سے ان کی جھڑپیں ہوا کرتی تھی۔ ۲۰۱۴ء میں جب روس نے یوکرین کے شہر کرائمیا پر قبضہ کیا تو روسی نسل کے باغیوں پر مشتمل ، دوصنعتی مراکز کے شہروں ڈونیسٹک اور ہولانسک نے بھی آزادی کا اعلان کردیا۔ یوکرین کے تئیں روس کے جارحانہ ارادوں سے امریکہ اور یورپی یونین بخوبی واقف تھے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کئی بار اس خدشے کا اظہار کیاتھا کہ روس ، یوکرین پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس کی یوکرین سے مخاصمت کی ایک اور وجہ یورپی یونین اور نیٹو کی طرف اس کا جھکاؤ تھا۔ وہ برسوں سے ان کا ممبر بننے کا متمنی تھا۔ روس اس کے خلاف تھا کیونکہ اس سے خود اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ جوبائیڈن ، پوتن کو جنگ سے باز رکھنا چاہتے تھے لیکن اپنی شرائط پر جو روس کو منظور نہیں تھا بائیڈن سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے وقت پوتن نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کی اور بصورت د یگرامریکہ سے روس کی سیکوریٹی اور سلامتی کی یقین دہانی چاہی جوبائیڈن دینے کے لئے تیارنہیں تھے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بائیڈن یقین دہانی پر راضی ہوجاتے توجنگ کو ٹالا جاسکتا تھا۔ یہ ماہرین یوکرین پر روسی حملے کے لئے امریکہ اور یورپی یونین کو برابر کا ذمہ دار مانتے ہیں۔
۲۴؍ فروری کو جس طرح روس نے یوکرین کو زمینی، فضائی اور بحری حملوں سے نشانہ بنایا اس کے بارے میں فوجی ماہرین بتاتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کے درمیان ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ امریکہ کا دوغلا رویہ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن نے جس طرح اپنی اور یورپی یونین کی طرف سے یوکرین کو فوج سمیت ہرطرح کی مدد کا یقین دلاکر روسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا دعویٰ کیا تھا، محض جملہ تھا ۔ پوتن کی نیوکلیئر دھمکی کے بعد امریکی اور یورپی یونین نے خاموشی اختیارکرلی تھی وہ جانتے تھے کہ نیوکلیائی تصادم سے دنیا میں جو تباہی مچے گی اس کا تصور نہیں کیاجاسکتا ہے۔ روس سپرپاور نہ ہونے کے باوجود ایک بڑی فوجی طاقت ہے اوراس کے پاس نیوکلیائی ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے ۔ غالباً یہی سوچ کر امریکہ اور یورپی یونین نے ہر طرح کی تجارتی، معاشی اورفضائی پابندیوں پر اکتفا کیا۔ کیا یہ پابندیاں رنگ لائیں گی؟ ہم اس بارے میںپُرامیدنہیں۔ ۲۰۱۴ء میں کرائمیا پر قبضے کے موقع پر بھی اس طرح پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن کا روس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس بار چین پوری طرح روس کے ساتھ ہے اس لئے دونوں مل کر ان پابندیوں کا کوئی نہ کوئی توڑ نکال لیں گے۔ جنگ کی طرح یہ پابندیاں بھی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ان سے جنگی جرائم کی تلافی ہوسکتی ہے نہ مالی امداد سے جنگ میں مرنے والوں کی زندگی واپس آسکتی ہے۔ ان پابندیوں سے روس الگ تھلگ پڑ جائے گا لیکن زیادہ متاثر نہ ہوگا کیونکہ اس نے ان سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرلی ہوگی جبکہ عالمی سطح پر ا ن کا جو اثر پڑے گا وہ دور رس ہوگا ۔
ہم یوکرینی صدر، فوج اور شہریوں کی ہمت اور حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یوکرینی صدر جنہیں پوتن نے مسخرہ کہا تھا اورجنہیں کوئی بھی اس اعلیٰ منصب کے لائق نہیں سمجھتا تھا، وہ ان پرآشوب حالات میں ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مؤثر پلیٹ فارم سے انہوںنے نہ صرف اپنے فوجیوں اور شہریوں کا حوصلہ بڑھایا بلکہ عالمی سطح پر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے اور پوتن کو ویلن بنانے میں بھی کامیاب رہے۔ خود پوتن بھی یوکرینیوں کی جرأت، اوالعزمی اور ثابت قدمی پر حیران وپریشان ہیں۔ اس لئے ہر گزرے دن کے ساتھ روسی حملوں میں شدت آتی جارہی ہے جس کا شکار عام شہری زیادہ ہورہے ہیں ان میں ایک ہندوستانی طالب علم بھی شامل ہے۔ روسی جارحیت کے تئیں حملے کی مذمت میں ہندوستان کا شش وپنچ والا رویہ اور سیکوریٹی کونسل کی مذمتی قرارداد کے موقع پر ووٹنگ سے غیرحاضری بھی بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہے۔




