بدھ کو یوکرین پر حملے کے چوتھے دن روس نے فضائی حملوں میں شدت پیداکرتے ہوئے بیک وقت کئی شہروں کو نشانہ بنایا جبکہ ملک کے دوسرے سب سے اہم شہر خارکیٖف میں بری فوج کو اتار دیاگیاہے ۔ روسی چھاتہ بردار فوج کے اترنے کے بعد شہر کی سڑکوں پر جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ خیرسون شہر پر قبضہ کرلینے کے دعوے کے بعد روسی فوجیں ماریوپول اور خارکیف شہر پر قبضے کی کوشش کررہی ہیں۔ یوکرین کی فوج نے سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’حملہ آور اور یوکرینیوں کے درمیان سڑکوں پر لڑائی ہو رہی ہے۔‘‘ الزام ہے کہ روسی فوج شہر کے رہائشی علاقوں اور سینٹرل اسکوائر پر بھی بمباری کر رہی ہے۔ ۷؍ دنوں سے جاری حملے میں یوکرین میں عام شہریوں کی ہلاکت ۲؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جس میں بچوں کی بھی خاصی تعداد ہے جبکہ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے جانباز اب تک جوابی کارروائی میں ۶؍ ہزار سے زائد روسی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر انٹن گیراشچینکو نے بتایا کہ بدھ کوخارکیف میں فضائی حملے کے نتیجے میں ایک فلائٹ اسکول کے بیرکوں میں آگ لگ گئی۔ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ ’’عملاً خارکیف میں ایسا کوئی علاقہ باقی نہیں بچا ہے جہاں توپ کے گولے نہ گرے ہوں۔ ‘‘ خارکیف کی آبادی تقریباً ۱۴؍ لاکھ ہے اور یہ روسی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس دوران یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو ایک ویڈیو جاری کیا اور دعویٰ کیا کہ روسی فوجوں نے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا ہے تصویر میں عمارت کے ملبے پر آگ لگی ہوئی ہے جبکہ امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔




