یوکرین اور روس کے درمیان شدت اختیار کرتی جنگ کے درمیان روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے یہ دھمکی دے ڈالی ہے کہ روس نیو کلیائی ہتھیاروں کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تواس جنگ میں جوہری ہتھیار بھی شامل ہوں گے اور روس اپنا دفاع اسی طریقے سے کرنے کو ترجیح دے گا۔یاد رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ دنوں ہی روس کی نیوکلیئر فورسیز کو `خصوصی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا ہے، جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کیا کہا ؟
سرگئی لاروف نے یوکرین کی جانب سے ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر کہا کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہو تی ہے تو وہ ایٹمی جنگ ہوگی اور سب کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ آسٹریلیا کی جانب سے یوکرین کو ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان پر سرگئی لاروف نے دھمکی دی کہ اگر یوکرین نے جوہری ہتھیار حاصل کئے تو اسے حقیقی معنوں میں خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لئے ہم تیار ہیں تاہم امید ہے کہ روسی ایتھلیٹ، کھلاڑیوں، صحافیوں اور نمائندوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ روسی وزیر خارجہ کے اعلان سے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیوں کہ دنیا ایک ایٹمی حملے کے اثرات اب تک جھیل رہی ہے اس لئے وہ نہیں چاہتی کہ دوسرا کوئی ملک اتنی شدید تباہی کی دھمکی بھی دے ۔
خیرسون شہر پر قبضہ
یوکرین کے شمالی، مشرقی اور جنوبی علاقوں میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ روسی فوجیں اپنی کارروائی میں یوکرین کے شہروں خارکیف اور خیرسون کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خیرسون پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ خار کیف بھی جلد ہی روس کے قبضے میں چلا جائے گا۔ یہاں روس نے کلسٹر بموں کے ساتھ میزائلوں کی بارش کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف بڑھ ر ہے ہیں۔ روس نےگزشتہ شب یوکرین کے متعدد شہروں پر اپنے حملے جاری رکھے۔ یوکرین کی فوج نے اطلاع دی ہے کہ دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں روسی فضائیہ کے دستوں نے دیگر مقامات کے علاوہ ایک اسپتال اور ایک اسکول پر حملہ کیا ہے۔
خار کیف میں ہلاکتیں
خارکیف میں کم از کم ۲۱؍ افراد کی ہلاکت اور دو سو سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس جنگ کے خاتمے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے جو کہ مکمل طور پر ناکام رہے۔اس کے بعد روس مزید جارح ہو گیا اور کئی شہروں پر تیزی سے حملے کر رہا ہے۔روس کے مسلح دستوں نے خصوصی مہم کے دوران یوکرین کے ۱۵۰۲؍فوجی ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
روس کا تین طرف سے حملہ
چونکہ یوکرین تین طرف سے روس سے گھرا ہوا ہے اس لئےماسکو کو حملہ کرنے میں آسانی ہو رہی ہے۔ اس نے یوکرین کی سرحدوں کو تین طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے اور اسی انداز میں بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔




