ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کرنے والی دھرم سنسد کے معاملے میں عالمی سطح پر ہندوستانی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی اس پر کارروائی کا دبائو بھی بڑھتا جارہا ہے۔ اسی درمیان نسل کشی اور اس سے متعلق بیانات و اقدامات پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’جینو سائڈ واچ ‘ نے بھی ہندوستانی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ اس نے تنظیم کے چارٹر پر دستخط کئے ہیں اس لئے وہ اس بات کی پابند ہے کہ نسل کشی کے تعلق سے بیانات دینے والوں پر فوری طور پر کارروائی کرے۔
جینو سائڈ واچ کے سربراہ اور نسل کشی پر ہونے والے اسٹڈیز کے ماہر ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کو ہری دوار میں ہونے والی دھرم سنسد کے معاملے میں فوری طور پر کارروائی کرنی ہو گی ورنہ وہ کئی عالمی چارٹرس کی خلاف ورزی کی مرتکب ٹھہرائی جائے گی۔ ڈاکٹر اسٹینٹن جو نسل کشی کے تدارک پر متعدد کتابیں تحریر کرچکے ہیں، نے نسل کشی پر عالمی سیمینار میںخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ نسل کشی صرف یہ نہیں ہے کہ قتل عام کردیا جائے بلکہ اس کی شروعات بالکل ایسے ہی ہو تی ہے جس طرح سے اس وقت ہندوستان میں سیاسی بیان بازی ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی ہری دوار دھرم سنسد میں جو کچھ ہوا وہ تو بالکل اور واضح طور پر اس ذیل میں آتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی حکومت کو اس تعلق سے فوری طور پر کارروائی شروع کرنی چاہئے او ر یہ مثالی ہو تاکہ آئندہ کوئی نسل کشی جیسے سنگین اور بھیانک جرم کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ ڈاکٹر اسٹینٹن کے مطابق ہندوستان نے نسل کشی روکنے کے چارٹر پر دستخط کئے ہیں اور یہ ملک ایسے کسی بھی اقدامات کا سخت مخالف رہا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ہندوستانی حکومت اپنے یہاں اٹھنے والی اُن آوازوں کو ختم کرے اور مثالی کارروائی کرتے ہوئے چارٹر پر عمل کرے ۔




