نئی دہلی ۔ راج بھون و پرگتی بھون کے درمیان جاری تنازعہ سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرکے گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن کو ریاست کے 10 اہم بلز کی منظوری دینے کی ہدایت کی درخواست کی گئی ۔ مذکورہ بلز طویل عرصہ سے راج بھون میں زیر التواء ہیں۔ توقع ہے کہ سپریم کورٹ میں جمعہ کو سماعت ہوگی۔ حکومت کی جانب سے چیف سکریٹری شانتی کماری نے رٹ پٹیشن دائر کی جس میں گورنر کو فریق بنایا گیا ہے ۔ گزشتہ 6 ماہ سے راج بھون میں ریاست کے بعض اہم بلز منظوری کے منتظر ہیں اور گورنر کی جانب سے بلز کی عدم منظوری پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی ، لہذا حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا گیا ۔ بلز کی عدم منظوری کے معاملہ میں گورنر کو ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کی جانب سے تنقیدوں کا سامنا ہے ۔ امید ک جارہی تھی کہ اسمبلی بجٹ سیشن سے خطاب کے بعد گورنر کے رویہ میں تبدیلی آئے گی لیکن ڈاکٹر سوندرا راجن نے صرف بجٹ سے متعلق بلز کو منظوری دی۔ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب کا کوئی منصوبہ نہیں تھا لیکن ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد حکومت نے گورنر کے خطبہ سے اتفاق کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ راج بھون میں تقریباً 10 سرکاری بلز زیر التواء ہے جو اسمبلی اور کونسل کے اجلاس میں منظور کئے گئے تھے۔ گزشتہ سال ستمبر میں حکومت نے 4 بلز کی اسمبلی میں منظوری کے بعد گورنر کو روانہ کیا تھا لیکن آج تک راج بھون نے منظوری نہیں دی۔ گورنر نے یونیورسٹیز میں تقررات کیلئے کامن رکروٹمنٹ بورڈ کی تشکیل کے بارے میں وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے وضاحت مانگی تھی ۔ حکومت کی وضاحت کے باوجود گورنر نے بل کو منظوری نہیں دی۔ راج بھون میں جو سرکاری بلز زیر التواء ہیں ، ان میں فاریسٹ یونیورسٹی ، یونیورسٹیز کیلئے کامن رکروٹمنٹ بورڈ ، جی ایس ٹی ترمیمی قانون ، اعظم آباد انڈسٹریل ایریا ترمیمی بل ، موٹر وہیکل ٹیکٹس ترمیمی بل ، پبلک ایمپلائیمنٹ ترمیمی بل ، پرائیویٹ یونیورسٹی ترمیمی بل اور میونسپل ایکٹ ترمیمی بل شامل ہیں.




