پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کی تیاریوں کے دوران پیش کئے گئے عام بجٹ کو اپوزیشن جماعتوںنے اسے ایک مایوس کن بجٹ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بجٹ کو صفرقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں غریبوں، کسانوں اور متاثرہ طبقات کیلئے کوئی راحت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں نوکری پیشہ افراد، متوسط طبقات، نوجوانوں، اور ایس ایم ایس ایم ای کیلئے کچھ بھی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈرادھیر رنجن چودھری نےبجٹ کو بے سمت بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں متوسط طبقے اور کسانوں کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بجٹ میں غریبوں اور کمزوروں کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نےاسے سرمایہ دارانہ بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں غریبوں، کمزور طبقوں، قبائلیوں، نوجوانوں، متوسط طبقے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔یہاں کانگریس ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نےکہا کہ اس بجٹ میں عام آدمی کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے، اسلئے عوام اس بجٹ کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے جڑے کئی اہم پہلو مودی حکومت اور وزیر خزانہ کے سامنے تھے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور انہیں نظر انداز کیاگیا ہے۔
ترنمول کانگریس نے بھی بجٹ پر شدید تنقید کی۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نےکہا کہ یہ بجٹ عام لوگوںکیلئے صفرہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ’’عام آدمی بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے لیکن بجٹ میں ان کے کسی بھی مسئلےکو اہمیت نہیں دی گئی ہے۔‘‘
بی ایس پی کی طرح عام آدمی پارٹی بھی بی جے پی پر کم ہی تنقید کرتی ہے لیکن اس بجٹ کو ان دونوں جماعتوں نے بھی مایوس کن بتایا۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ اس کورونا وبا کے وقت بجٹ سے لوگوں کو بہت امید تھی لیکن حکومت نے مایوس کیا۔کچھ اسی طرح بی ایس پی سپریمومایاتی نے بھی کہا کہ ٹیکس کی مار سے کراہ رہےعوام کو نئے وعدوں سے لبھانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ بڑھتی غریبی، بے روزگاری اور مہنگائی پر کنٹرول کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
شیوسینا نے بھی اس بجٹ کو خالی خالی قرار دیا۔ شیوسینا ایم پی پرینکا چترویدی نے بجٹ پر اپنا تلخ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عام آدمی کیلئے کچھ بھی تونہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں عوام کے بوجھ کو کم کرنے یا ان کی آمدنی بڑھانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
اترپردیش میں بی جے پی کی نیند حرام کرنے والی سماجوادی پارٹی نے بھی اس پر تنقید کی۔ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بجٹ کو عام لوگوں کی جیب کاٹنے والا بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ اترپردیش میں بی جے پی کے تکلیف دہ عہد کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوگا۔
بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’’کام اورکاروبار سب ہوا چوپٹ، تاریخی کساد بازاری، لاکھوں کی نوکری کر گئی چٹ،عام آدمی کی آمدنی گئی گھٹ، بے کاری،بیماری میں بینکوں میں جمع نکلی ساری بچت، اب لوگوں کی جیت کاٹنے کیلئے آیا ہے بی جے پی کا ایک اور بجٹ۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ اترپردیش سے بی جے پی کے تکلیف دہ عہد کے خاتمے کا آغاز ہورہا ہے۔ ’’یوپی کہے آج کا۔نہیں چاہئے بھاجپا‘‘۔
بہار کی اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) نے بھی بجٹ کو بے حد مایوس کن قرار دیاہے ۔آرجے ڈی کےریاستی ترجمان اور سابق رکن اسمبلی شکتی سنگھ یادو نے کہاکہ اس مرتبہ کے عام بجٹ میں خاص کر ملک کے نوجوان نسل کور وزگار دینے کیلئے کوئی ایساماڈل نہیں بتایا گیاہے، جس سے کہ وہ روزگار دینے کی بات کر رہے ہوں۔ جس میک انڈیا کے تحت اعلانات کئے گئے تھے ، ان میں نوجوانوں کیلئے کچھ نہیں ہے ۔ یہ مکمل طور سے بہار جیسے غریب ریاست کیلئے مایوس کن ہے ۔




