جمعہ, مارچ 6, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

جمہوریت میں ہمارا اور یورپی اقوام کا طرزِ فکرو عمل

Rubina by Rubina
اپریل 2, 2023
in بھارت, سیاست
327 0
0
جمہوریت میں ہمارا اور یورپی اقوام کا طرزِ فکرو عمل
657
SHARES
445
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

نظریاتی سیاست کا ایک ہدف ہوتا ہے۔ اس کے تحت یہ طے کیا جاتا ہے کہ کہاں پہنچنا ہے یا کیا حاصل کرنا ہے۔ اصرار اس بات پر ہوتا ہے کہ طرز حکومت بدلے۔ مارکس داوی سوچتے رہے کہ حکومت ملک کے اقتدار پر عوام (کمیونٹی) قابض ہوں۔ جنوبی ایشیاء میں کوشش ہوئی تھی کہ حکومت کے عمل دخل سے روحانیت کو جدیدیت سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اس کی کوشش پاکستان کے اُس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ آئین میں مذہب کو شامل کیا جائے اور پارلیمنٹ کی جگہ پر خدائی حکمرانی ہو۔
یہ تجربہ ناکام رہا کیونکہ یہ طے کرنا مشکل تھا کہ پاکستانی کون ہے، کیا وہ ہے جو روحانی طور پر بلند و بالا ہوچکا ہے اور جو ملکی قوانین کے ذریعہ سائنسی جدت کو اپنی شناخت بنا چکا ہے؟ یورپ میں حکومت عوامی فلاح و بہبود کو مرکوز توجہ بناتی ہیں (ویلفیئر اسٹیٹ کا نظریہ) اور عوام کو صحت اور تعلیم کے بہتر اور معیاری مواقع فراہم کرتی ہے، اُنہیں اچھی پنشن دیتی ہے اور بے روزگاروں کی فلاح و بہبود کو ہمہ وقت سامنے رکھتی ہے۔ یہ بھی ایسا ہدف ہے جسے پانے کی کوشش حکومتیں کرتی ہیں۔ ان میں کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے فوجی طاقت کے ہدف کو بالائے طاق رکھ دیا۔ کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے سیاست میں مذہب کی آمیزش سےپہلو تہی کرلیا۔ اب یورپ کے شہریوں کی بڑی تعداد تکثیریت کی قائل ہے یعنی چاہتی ہے کہ ملک میں رنگا رنگی ہو، الگ الگ فرقوں کے لوگ رہتے بستے ہوں۔ ہمارے عہد کے یورپ کی یہ اہم خصوصیت ہے۔
آج یورپ کے کئی سیاستداں اور لیڈر جنہیں عوام نے اہم عہدوں کیلئے منتخب کیا، ہمارے سامنے ہیں اور تکثیریت کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ہندوستانی نژاد ہندو ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی سربراہ پاکستانی نژاد مسلمان ہیں، آئرلینڈ کے اعلیٰ لیڈر ہندوستانی نژاد عیسائی اور پرتگال کے لیڈر ہندوستانی نژاد عیسائی ہیں۔ ان شخصیات پر ہم فخر کرتے ہیں مگر، ان لیڈروں کے انتخاب کو یورپی رائے دہندگان کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو گھبرا جائینگے۔ ہم ایسی مثالوں کی دُہرانے کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے۔ فخر کرنا الگ بات ہے، ویسا کرکے دکھانا بالکل الگ بات۔کیا ۲۰۲۳ء کے ہندوستان میں ہم سوچ بھی سکتے ہیں کہ اپنے ملک کے اقلیتی طبقات کے کسی نمائندے کو وزیر اعظم بنائیں گے؟ (ماضی میں ایسا ہوچکا ہے مگر آج؟)
جن ملکوں کا اوپر ذکر کیا گیا ، وہ محض ظاہری زندگی میں جدید (ماڈرن) نہیں ہیں بلکہ جدید لفظ کے حقیقی معنوںمیں جدید ہیں۔ وہ فرقہ وارانہ یا مذہبی بنیادوں پر ووٹ نہیں دیتے۔ بہ الفاظ دیگر، یورپ کے مختلف ملکوں میں یہ دیسی لیڈر اگر لیڈر منتخب ہوئے اور اب اپنی آئینی ذمہ داری نبھا رہے ہیں تو اس کی وجہ صرف اتنی نہیں کہ وہ رائے دہندگان میں مقبول ہیں بلکہ اس لئے وہ الگ برادری اور فرقہ نیز الگ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں الگ برادری یا الگ نسل کا ہونا باعث فخر ہے۔ وہاں کا ووٹر سمجھتا ہے کہ ایسے لیڈروں کے انتخاب کے ذریعہ وہ اپنے ملک کی تکثیریت یا اس کے تنوع اور رنگا رنگی میں اضافہ کرتے ہیں یا اُسے مستحکم کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں آئیے مادرِ جمہوریت (مدر آف ڈیموکریسی) کا جائزہ لیں۔ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مادرِ جمہوریت سے مراد ہمارا عظیم الشان ملک ہندوستان ہے۔ایک بیرونی شخص ہماری جمہوریت کو فعال اور پُرجوش مگر نوعیت کے اعتبار سے قبائلی سمجھتا ہے کیونکہ یہاں کسی فرقے یا ذات سے وفاداری کافی مضبوط اور طاقتور ہے۔ کسی دوسرے فرقے یا ذات کے شخص کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ ایک فطری رجحان ہے اور تقریباً تمام ملکوں میں پایا جاتا ہے مگر جدید ملکوں نے، جو جدیدیت پسندی کے دل سے قائل ہیں، اس فطری رجحان سے باہر آکر سوچتے ہیں۔ وہ ممالک جو روایت پسند ہیں اور جدیدیت کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود جدید رجحانات سے دور ہیں، وہ اب بھی فطری رجحان کے اسیر ہیں کہ اپنا لیڈر وہ ہو جو ’’اپنا آدمی ‘‘ ہو۔
روایت پسندی (قبائلیت یا ٹرائبل ازم) نے ہندوستانی جمہوریت کو ذات پات یا جاتی کے نظریات تک محدود رکھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی ٹکٹوں کی تقسیم میں ذات پات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں ریاستوں کی تشکیل لسانی بنیادوں پر کیوں ہوئی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ باگ لسانی بنیادوں پر متحد ہوں اور ذات پات کو فراموش کردیں مگر لسانی اتحاد کے باوجود ذات پات کے نقطۂ نظر سے سوچنے کا میلان ختم نہیں ہوا۔ ہندوتوا کی اُٹھان اور ملک کی جمہوریت میں اس کی اثر پزیری کی وجہ سے یہ ہوا کہ روایت پسندی دوبارہ جمہوریت میں داخل ہوگئی۔ یہاں دوبارہ اس لئے لکھا گیا ہے کہ ہندوتوا کا رجحان ملک کی آزادی سے قبل بھی موجود تھا جو آزادی کے ساتھ ہی ملک کی تقسیم پر منتج ہوا۔ مگر، اب یعنی ملک کی آزادی اور تقسیم کے ۷۵؍ سال بعد کی کیفیت یہ ہے کہ حکومت، اس کی پالیسیاں، زبان اور لب و لہجہ نیز اس کا طرز عمل ویسا نہیں ہے جیسا ایک جدید طرز فکر کے حامل ملک کا ہونا چاہئے۔ہندوستانی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کا ہماری جمہوریت پر کیا اثر پڑرہا ہے۔ ہمارا ہدف وہ نہیں ہوسکتا جو نیپال کا ہے اور جسے عہد حاضر کا واحد ہندو راشٹر کہا جاسکتا ہے۔ یہ ملک ہندو ضرور ہے مگر اس نے اقلیتوں کو مرکز نگاہ نہیں بنا رکھا ہے۔ اس نے اقلیتی طبقات کو حاشئے پر لانے کی پالیسی نہیں بنائی ہے۔ ہم نے ایسا کیا ہے چنانچہ شہریت، غذا، طلاق، شادی، عبادات اور لباس وغیرہ کے تعلق سے ہمارا طرز عمل متعصبانہ اور جانبدارانہ ہے۔ یورپی ملکو ںمیں ہندوستانی شخصیات کے تئیں جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، ہم ہندوستان میں ایسا نہیں کرتے۔
چند طبقات کو حاشئے پر لانے کے کچھ وقتی سیاسی فوائد تو ہوسکتے ہیں بلکہ ہیں مگر اس سے جمہوریت کو کیا فائدہ ملے گا اور ملک کو کیا فیض حاصل ہوگا یہ وہی بتاسکتے ہیں جنہوں نے یہ سعی کی۔ جب وہ اپنی کوشش میں سو فیصد کامیاب ہوجائینگے تب سوال ہوگا کہ اب کون سا ہدف؟ تب کیا ایک کے بعد ددوسرا طبقہ ہدف نہیں بنے گا؟ نئے ہندوستان میں یہ سوال بہت اہم ہے ۔

Previous Post

سزائے موت کیسے دی جائے؟

Next Post

کرناٹک، بی جے پی اور کانگریس

Next Post
کرناٹک، بی جے پی اور کانگریس

کرناٹک، بی جے پی اور کانگریس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist