ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

سزائے موت کیسے دی جائے؟

Rubina by Rubina
اپریل 2, 2023
in بھارت, سیاست
764 0
0
سزائے موت کیسے دی جائے؟
654
SHARES
355
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

موت کی سزا کا سب سے اچھا یعنی پھانسی پر چڑھائے جانے والے شخص کے لئے کم اذیتناک طریقہ کیا ہو؟ ۱۹۸۳ء میں سپریم کورٹ نے رائج طریقے یعنی گلے میں پھندا لگانے کو سب سے بہتر قرار دیا تھا مگر اب ۲۱؍ مارچ ۲۰۲۳ء کو ایک معاملے کی سماعت کے دوران سرکار سے ہی سوال کیا کہ وہ اس سوال پر کیا رائے رکھتی ہے یا عام لوگوں کی اس معاملے میں کیا رائے ہے؟ اس پر مذاکرہ کرے۔ سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے پس منظر یا منشا کو سمجھنے کے لئے تین باتوں کا ذہن میں ہونا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ سزا کا مقصد مجرم کو اصلاح یا ایک بہتر زندگی گزارنے کا موقع عنایت کرنا ہے، اس کی زندگی کا خاتمہ کرنا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ سزا کے طریقے کا تعین کرنا قانون بنانے اور قانون کے مطابق حکومت چلانے والوں کا کام ہے۔ عدالت کا نہیں اور تیسری بات یہ کہ خود موت کی سزا ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے۔
پہلے سوال یا بات پر غور و فکر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ موت کی سزا بے قصور کو بھی سنائی جاتی رہی ہے اور اس سے سزا یافتہ شخص کے اپنی اصلاح کرنے کا سارا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ عادی مجرموں یا موذی ذہنی امراض میں مبتلا ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جنہیں اصلاح کا موقع دنیا دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اپنے ملک کی سالمیت کے خلاف سازش کرنے والوں سے ساز باز کرنے، معصوم بچوں بچیوں کا جنسی استحصال کرنے یا منشیات کا کاروبار کرنے یا بچوں کو اس کا عادی بنانے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔ دو، پانچ مہینہ یا سال کی سزا بھی ان کے لئے کافی نہیں ہے وہ جیلوں سے نکل کر بھی خطرناک جرائم کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد بھی بہت ہے جو جیل میں رہتے ہوئے مسلسل ایسے جرائم کراتے رہتے ہیں جن کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے اس حقیقت کے باوجود کہ دنیا کے بیشتر ملکوں میں پھانسی کی سزا ختم ہوچکی ہے اس کے جواز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ یہ یاددہانی ضروری ہے کہ موت کی سزا کا مستحق قرار دیئے جانے والے کے بارے میں ایماندارانہ تحقیق، بحث اور فیصلہ ضروری ہے۔ ایسے فیصلوں میں مذہبی تعصب، سیاسی انتقام یا بدعنوانی کی کسی بھی شکل کی معمولی سی آمیزش میں سزا کے مقصد کو نہ صرف فوت کر دے گی بلکہ سماج میں بے چینی اور بغاوت کا بھی ذریعہ بنے گی۔ سزا جتنی سخت ہو سزا سنانے اور اس سزا کا نفاذ کرنے والوں یا انتظامیہ کا ایماندار، صاحب ادراک اور انسان دوست ہونا اتنا ہی ضروری ہے۔ بے شک سزا کا مقصد اصلاح یا بہتر زندگی کا موقع عطا کرنا ہے اس کے باوجود جس طرح معالج کا مقصد مریض کے امراض کو دور کرنا اور اس کو ہر طرح ثابت و سالم رکھنا ہوتا ہے اس کے باوجود کئی معاملات میں کسی عضو کو کاٹ کر پھینکنا یا چیر پھاڑ کرنا ضروری ہوتا ہے کہ زہر یا بیماری تمام جسم میں سرایت نہ کرے اسی طرح ایسے مجرموں کے لئے موت ضروری ہے جن کے سدھرنے کا امکان نہیں ہے۔ ایسے ذہنی مریض سماج میں پھیلے ہوئے ہیں جو نہ صرف چھوٹے چھوٹے بچے بچیوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں بلکہ جنسی استحصال کرکے انہیں قتل بھی کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی جو سب کچھ سمجھتے بوجھتے زیادہ دولت کمانے کی ہوس میں منشیات فروشی کرتے یا انسانوں کے درمیان نفرت کا زہر گھول کر نئی نسلوں کو تباہ کرتے ہیں ایسی ہی سزا کے مستحق ہیں۔ یہ ذہنیت کم قاتل یا مضر نہیں کہ ہماری بات مانو، ہمارے تابع رہو اور زندہ رہو۔ مگر ہمارے تابع نہیں رہو گے یا آزادانہ سوچ کا مظاہرہ کرو گے تو مارے جاؤ گے۔ مشکل یہ ہے کہ ایسا کرنے والے کتنے ہی لوگ قوم کے محسنین اور مخلصین میں شمار کئے جاتے ہیں۔ یہ لوگ منشیات فروشوں سے کم مجرم نہیں جو نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ مہذب سماج میں گھر خاندان کے بڑوں اور سماج کے ذمہ داروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں اور عام لوگوں کو یاددہانی کراتے رہیں کہ باعزت زندگی گزارنا بھی ہر شخص کا حق ہے اور باعزت زندگی گزارنے کا حق عطا کرنا بھی ہر شخص کا فرض ہے۔ کسی بھی حیلے سے اس حق یا فرض پر ڈاکہ ڈالنا جرم ہے۔ اس لئے یہ تسلیم کرنے کے باوجود کے سزا کا مقصد مجرم کی زندگی کا خاتمہ نہیں اس کو اصلاح کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جس طرح بنجر اور پتھریلی زمینوں میں بیج ڈال کر فصل کی توقع نہیں کی جاسکتی، عادی مجرموں اور مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کو آزاد چھوڑ کر معاشرے میں امن و سلامتی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
دوسری بات کے بارے میں بیشک سپریم کورٹ ۱۹۸۳ء میں فیصلہ صادر کر چکا ہے کہ پھانسی یعنی موت کی سزا کا سب سے اچھا طریقہ گلے میں پھندا ڈالنا ہے مگر اب زمانہ بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ انسانی وجود کے شرف کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے اور پھانسی کی سزا کے خلاف رائے عامہ بھی ہموار ہو رہی ہے مگر یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ موت کی سزا کے ایسے طریقے بھی تلاش کئے جاسکتے ہیں جن پر وحشیانہ ہونے کی پھبتی نہ کسی جاسکے۔ سپریم کورٹ نے موت کے طریقے پر خود کچھ کہنے کے بجائے حکومت سے یہ کہہ کر کہ وہ اس موضوع پر لوگوں کی رائے معلوم کرے یا بحث کرائے دراصل ایک طرف تو یہ یاددہانی کی ہے کہ سزا نافذ کرنا حکومت کا کام ہے اور عدلیہ حکومت کے اس کام میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی وہیں یہ یاددہانی بھی کی ہے کہ ہر انسان کو جہاں باعزت زندگی گزارنے کا حق ہے وہیں انسانی زندگی کے لئے خطرہ بننے والوںکے لئے ایسی ہی موت کی اجازت دی جاسکتی ہے جو غیر انسانی یا وحشیانہ نہ ہو۔
تیسری بات کا جواب پہلے ہی دیا جاچکا ہے کہ بیشک موت کی سزا ہمیشہ موضوع بحث رہی ہے اور دنیا کے بیشتر ملک اس قسم کی سزا سے تائب ہوچکے ہیں مگر بعض معاملات میں اس کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ البتہ ذہن میں اس بات کا ہونا ضروری ہے کہ سیاسی انتقام، مذہبی تعصب اور انتظامی بدعنوانی کے سبب ’’سزا دہشت گردی‘‘ کی شکل اختیار کرسکتی ہے جس کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جاسکتی۔ ’’انکاؤنٹر‘‘ کی صورت میں جو ہوتا رہا ہے وہ ’’اسٹیٹ دہشت گردی‘‘ کی ہی ایک شکل ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ رخ سے اتنا ضرور ہوگا کہ انصاف اور سزا کے بارے میں لوگوں میں ذہنی بیداری پیدا ہوگی۔

Previous Post

میرٹھ کی سب سے بڑی خبر، ملیانہ فسادات میں 39 ملزمین بری

Next Post

جمہوریت میں ہمارا اور یورپی اقوام کا طرزِ فکرو عمل

Next Post
جمہوریت میں ہمارا اور یورپی اقوام کا طرزِ فکرو عمل

جمہوریت میں ہمارا اور یورپی اقوام کا طرزِ فکرو عمل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist