٭ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے کانگریس کیڈر کے حوصلے بلند
٭ مودی کے دورہ کے بعد بی جے پی کی سرگرمیاں تیز ہوسکتی ہیں
٭ ارکان اسمبلی کو ہفتہ میں تین دن اپنے حلقوں میں قیام کی ہدایت
٭ پارٹی کے ناراض قائدین کو منانے کے ٹی آر کو ذمہ داری
حیدرآباد۔/ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے منوگوڑ کے ضمنی انتخاب کے بعد ایک سال قبل عام انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ پارٹی کے تمام 104 ارکان اسمبلی کو ہفتہ میں تین دن اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں قیام کرنے، زیر التواء ترقیاتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل کرنے، پارٹی کے دوسرے اور تیسرے درجہ کے قائدین کی ناراضگی کو دور کرنے اور جن اسمبلی حلقوں میں کمیونسٹ جماعتوں کا اثر و رسوخ ہے ان حلقوں میں کمیونسٹ جماعتوں کے مقامی قائدین سے تال میل اور رابطہ پیدا کرتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ٹی آر ایس پارٹی کے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس نے منوگوڑ کے ضمنی انتخاب میں اپنی ساری توجہ جھونک دی تھی۔ وزراء اور 90 سے زائد ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل کو منوگوڑ ضمنی انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ رات دن محنت کرنے کے باوجود ٹی آر ایس کو صرف 10 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بی جے پی نے دوسرا مقام حاصل کیا ہے جبکہ کانگریس کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ دوباک اور حضور آباد اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کی بہ نسبت کانگریس کو منوگوڑ میں زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم اور ٹی آر ایس کی پول مینجمنٹ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو الرٹ ہوجانے کی ہدایت دی ہے۔ عام انتخابات کیلئے مزید ایک سال باقی ہے تاہم ابھی سے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں سرگرم ہوجانے، عوام سے رابطہ میں رہنے، اپنی فلاحی اسکیمات کو عوام تک پہنچانے اور اسمبلی حلقوں میں ترقیاتی و تعمیراتی کاموں میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت دی۔ پرشانت کشور کی ٹیم نے ماضی میں چیف منسٹر کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے 30 ارکان اسمبلی کی کارکردگی سے عوام ناخوش ہونے کا اشارہ دیا تھا ساتھ ہی پارٹی کے دوسرے و تیسرے درجہ کے قائدین میں پائی جانے والی ناراضگی کا بھی حوالہ دیا تھا۔ ریاست میں راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کامیاب ہوئی ہے جس کے بعد کانگریس کیڈر کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ریاست میں دوبارہ کانگریس پارٹی سرخیوں میں آگئی ہے۔ لوگ کانگریس پارٹی کے بارے میں باتیں کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے بھی پارٹی قدائدین کو اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں سرگرم ہوجانے کی ہدایت دی ہے۔ منوگوڑ کی شکست سے بی جے پی کیڈر میں مایوسی ہے لیکن وزیر اعظم کے دورہ راما گنڈم سے بی جے پی دوبارہ سرگرم ہونے کی تیاری کررہی ہے۔ 12 نومبر کو راما گنڈم میں نریندر مودی کا بہت بڑا جلسہ عام منعقد کرتے ہوئے پارٹی کیڈر میں نیا جوش و خروش بھرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ان سیاسی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ارکان اسمبلی کو چوکنا ہوجانے کا مشورہ دیا ہے۔ غفلت اور لاپرواہی کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کرنے، اپنے اپنے حلقوں میں عوامی ناراضگیوں کو دور نہ کرنے پر ٹکٹ سے محروم کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس کے ورکنگ صدر و ریاستی وزیر کے ٹی آر کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مختلف اضلاع میں زیر التواء ترقیاتی کاموں پر خاص توجہ دیں اور پارٹی کے ارکان اسمبلی سے رابطہ میں رہیں۔ دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی اور ٹی آر ایس کے مقامی قائدین و کیڈر میں اتحاد کا جو فقدان ہے اسے دور کرنے اور پارٹی کے ناراض قائدین کو سمجھانے منانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پارٹی قائدین کو نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر پارٹی کے مفادات کو ترجیح دینے کیلئے راضی کرانے پر زور دیا گیا۔ ناراض قائدین کو منانے کیلئے حکومت کے نامزد عہدے دینے کے علاوہ تنظیمی عہدے دینے اور ساتھ ہی بی آر ایس کی تشکیل پر ان کی خدمات قومی سطح پر استعمال کرنے کا تیقن دیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی دوسری جماعتوں کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔




