روس اوریوکرین جنگ کے اثرات اب عالمی معیشت پر نظر آنےلگے ہیں۔ تیل کے داموں کو کنٹرول کرنے کی تمام تر کوششوں اور دعوئوں کے باوجود عالمی بازار میں کچےتیل کے دام تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ بدھ کو دن میں کئی بار کچے تیل کے داموں میں اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ منگل تک یہ دام ۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل تھے، لیکن بدھ کو اس میں کم از کم ۳؍ بار اضافہ ہوا۔ شام تک تیل کے دام عالمی بازار میں ۱۱۳؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ ۲؍ روز قبل ہی سعودی عرب نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عالمی سطح پر تیل کے داموں میں اضافہ نہیں چاہتا ہے اور اس کیلئے وہ اوپیل پلس معاہدے کی پاسداری کرے گا ساتھ ہی ہر وہ اقدام کرے گا جو تیل کے داموں پر کنٹرول رکھنے کیلئے ضروری معلوم ہوں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا ہو۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے ۶۰؍ لاکھ بیرل زائد تیل مارکیٹ میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے باوجود تیل کے داموں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بدھ کو عالمی بازار میں تیل کے داموں میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔ پہلے اس کی قیمت ۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر ۱۰۵؍ ڈالر فی بیرل ہوئی۔ اس کے بعد خبرآئی کہ کچے تیل کے دام ۱۱۱؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں۔ شام ہوتے ہوتے یہ دام ۱۱۳؍ ڈالر فی بیرل تک جا پہنچے۔ یاد رہے کہ ۲۰۱۴ء کے بعد تیل کے داموں میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے دیگر کاروباروں پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ فی الحال اس کا فوری اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن اطلاع کے مطابق یورپ کے کئی ممالک میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ روس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جہاں تیل کی پیداوار ہوتی ہے۔ ساتھ ہی وہ خود یورپی ممالک کو پائپ لائن کے ذریعے گیس بھی فراہم کرتا ہے۔ گیس کی فراہمی کا سلسلہ فی الحال بند نہیں ہوا ہے ۔ اسلئے اب بھی عالمی سطح پر کساد بازاری نظر نہیں آ رہی ہے لیکن اگر جنگ میں شدت پیدا ہوئی تو آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف عالمی برادری نے روس کے ۷؍ اہم بینکوں کو بین الاقوامی بینکنگ نظام سے باہر کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے معاشی لین دین پر گہرا اثر پڑے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے رو سے زیادہ یورپی ممالک کو نقصان کا خدشہ ہے۔ اس لئے یورپی ممالک میں کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں۔ فی الحال عالمی برادری کی جانب سے ممکنہ بحران کو روکنے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔
تیل کے داموں پر کنٹرول کی کوششیں
اس دوران سعودی حکومت نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ ایک روز قبل سعودی کابینہ نے ولی عہد محمد بن سلمان کے اس بیان کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت عالمی سطح پر تیل کی منڈیوںکے استحکام کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی اور خاص طور پر اوپیک پلس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید سے فون پر رابطہ قائم کیا ہے اور عالمی بازار میں تیل کے داموں پر کنٹرول رکھنے کے تعلق سے تبادلہ ٔ خیال کیا ہے۔ دونوں لیڈروں نے توانائی کی عالمی منڈیوں سے ہم آہنگی کے تعلق سے ضروری اقدامات پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے بدھ کو ایک اہم اجلاس بلایا جس کی تفصیل خبر لکھے جانے تک موصول نہیں ہو سکی۔ البتہ اس اجلاس کا مقصد ہی یہ تھا کہ یوکرین جنگ کے دوران عالمی بازار میں بڑھتے تیل کے داموں پر قابو پایا جائے اور اس تعلق سے ضروری اقدامات کئے جائیں جن میں سب سے اہم اقدام ہے تیل کی پیدوار میں حتی الامکان اضافہ کرنا۔
سونے چاندی کے داموں میں گراوٹ
جنگ کی وجہ سے جہاں تیل کے داموں میں اضافہ ہو رہاہے تو سونے چاندی کے داموں میں گراوٹ آ رہی ہے۔ عالمی بازار میں سونے دام جہاں ۱۹؍ سو ڈالر فی اونس تھے وہیں بدھ کو اس کے دام تقریباً ۱۸؍ سو ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ اس کا اثر قومی سطح پر بھی دکھائی دیا۔ سونے کے دام ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی کم ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سونے چاندی کے دام گزشتہ ۷؍ سال میں ۲۸؍ ہزار روپے فی تولہ سے بتدریج بڑھتے ہوئے ۵۰؍ ہزار روپے فی تولہ تک پہنچے ہیں۔ جنگ کے دوران اس میں کمی آنے کا امکان ہے۔




