ناگالینڈ کے مون ضلع میں سیکوریٹی فورسیز کے ہاتھوں بےقصور گائوں والوں کی ہلاکت کے خلاف پوری ریاست میں ویسے ہی سخت غم و غصہ ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے ذریعے دئیے گئے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ انہوں نے آرمی کے اس آپریشن کو ’شناخت کی غلطی ‘ بتاکر رفع دفع کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ گائوں والوں کا کہنا ہے کہ فورس نے بے قصور افراد نشانے پر لے لے کر مارا ہے۔ ان کے اسی بیان پر مون ضلع میں سنیچر کو شدید احتجاج ہوا ۔ اس دوران امیت شاہ کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور ان کے پتلے نذر آتش کئے گئے۔
واضح رہے کہ امیت شاہ کے بیان پرناگالینڈ کی تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی مقامی اکائی نے بھی سخت اعتراض کیا تھا اور اس پر وضاحت دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے اس معاملے میں خاموشی برتے جانے کے بعد سنیچر کو عوام سڑکوں پر آگئے او رانہوں نے نہ صرف امیت شاہ بلکہ مرکزی حکومت ، فورسیز اور مقامی بی جے پی یونٹ کے خلاف بھی سخت احتجاج کیا۔ اس مظاہرے میں تقریباً ۱۲؍ ہزار افراد شامل ہوئے جو ناگالینڈ کے قبائل کی تنظیم کونیاک یونین کے تحت احتجاج کرنے پہنچے تھے۔ ان کے علاوہ اوٹنگ گائوں کے بھی تقریباً تمام افراد حکومت کے خلاف سڑک پر اتر گئے اور امیت شاہ سے ان کے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے لگے۔
پولیس کو مظاہرین کو قابو میں لانے میں ناکوں چنے چبانے پڑے۔ ہر چند کہ حالات قابو سے باہر نہیں ہوئے لیکن اس دوران مظاہرین نے مرکز مخالف نعرے بازی جم کر کی اور امیت شاہ کا پتلا نذر آتش کرتے ہوئے افسپا ہٹانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔




