بھارت نے جموں و کشمیر کو دئے گئے خصوصی درجہ کو ختم کرکے اس کی تقسیم کر دی، اس کی یا تو پاکستان کو ہوا تک نہیں تھی یا پھر وہ اس معاملہ پر ہلکا پھلکا رد عمل ظاہر کر کے پاکستانی عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ لیکن جموں و کشمیر میں ہندوستان نے جو کچھ کیا اس کے حوالہ سے پاکستان میں ایک طرح کی خاموشی نظر آتی ہے۔ حالانکہ دکھاوے کے لئے پاکستانی قومی اسمبلی کا ایک خصوصی مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا لیکن اس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور بغیر کسی قرارداد کے اجلاس اختتام پزیر ہو گیا۔
پاکستانی فوج بھی ان حالات میں اسٹریٹجیک رویہ ہی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اگرچہ ’فارمیشن کمانڈرس‘ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا لیکن اس کے بعد جو پریس ریلیز منظر عام پر آئی اس میں کہا گیا کہ اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا، ’’ہندوستان کی طرف سے کشمیر کے حوالہ سے لئے گئے فیصلہ کو پاکستانی حکومت کے یکسر مسترد کرنے کے موقف کی فارمیشن کمانڈرس تائید کرتے ہیں۔ پاکستان کبھی جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور ’35 اے‘ کو ہٹا کر اسے یونین آف انڈیا میں شامل کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔ پاکستانی فوج کشمیریوں کے انصاف کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے۔ اس حوالہ سے ہم کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔
پاکستان کے کچھ تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ پریس ریلیز محض ایک دھوکہ ہے۔ اس میں نہ تو کسی کارروائی کا ذکر ہے، نہ کسی حکمت عملی کا اور نہ ہی اس صورت حال میں آگے کیا کرنا ہے، اس کا کوئی ذکر ہے۔ یہ صرف لوگوں کو گمراہ کرنے والا بیان ہے۔



