پیر, جون 8, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

آسمان شاعری کا تابندہ اور درخشاں ستارہ:شاعرہ فوزیہ اختر ردا

Rubina by Rubina
اگست 8, 2023
in بھارت, تعلیم
563 0
0
آسمان شاعری کا تابندہ اور درخشاں ستارہ:شاعرہ فوزیہ اختر ردا
768
SHARES
677
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محترمہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ کا تعلق ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کولکتہ سے ہے جہاں 8 اگست 1978 کو ان کا اختر حسین صاحب کے گھر میں جنم ہوا ۔ ان کا اصل نام فوزیہ اختر ہے جبکہ ردا ان کا تخلص ہے ۔ گو کہ ان کے والدین کا ادب سے تعلق نہیں ہے لیکن وہ علم و ادب کے قدر دان ضرور رہے ہیں ۔ انہوں نے بی ایس سی بائیو سائنس میں 1998 میں کولکتہ یونیورسٹی سے کیا جس کے بعد وہ معلمہ بن کر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں اور اس وقت سے اب تک بڑی محنت اور لگن کے ساتھ علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں ۔ ان کی مادری زبان اردو ہے اس کے علاوہ انگریزی اور بنگلہ زبان بھی روانی کے ساتھ لکھ،پڑھ اور بول سکتی ہیں ۔ ان کے خاندان میں یاسین صاحب بھارت میں اردو کے مشہور شاعر ہو کر گزرے ہیں ان کی شہرت اور مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے دور کی ممتاز سیاسی شخصیت اور وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی ان کی شاعری کی مداح تھیں اور ان کو خصوصی طور پر اپنے ہاں مدعو کر کے ان سے ان کی شاعری سنا کرتی تھیں ۔

فوزیہ اختر ردا یہ نام ہے سر زمین بنگال میں آسمان شاعری کے افق پہ ایک حسین تابندہ ستارے کی، دنیا جسے فوزیہ اختر ردا کے نام سے جانتی ہے۔فوزیہ اختر اسم بامسمٰی ہیں وہ بلاشبہ آسمان شاعری کی ایک ستارے کی مانند ہیں جو ہمیشہ عرش پہ جھلملاتی ہیں اور بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہیں بنگال کی سر زمین ادب کے لئے بہت زرخیز ہے اور یہ وہ سر زمین ہے کہ اسے کہتے ہیں جو ذرہ یہاں پہ اگتا ہے وہ نیر اعظم ہوتا ہے ذرے سے آفتاب کا سفر طے کرنے میں وہاں کی خاردار جھاڑیوں اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے- لیکن محنت رائیگاں نہیں جاتی- علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے اور شہر نشاط علم و فن کا گہوارہ ہے تہذیب و تعلیم کا مرکز ہے کہتے ہیں Bangal is the greatest education hub ظاہر ہے اس زرخیز سر زمین کا اثر فوزیہ پہ بھی ہوا اور جب موصوفہ شکم مادر سے نکل کر آغوش مادر میں آئی تو ادب کی زرخیزی کا پورا اثر ان کی شخصیت میں داخل ہوا اور ننھی معصوم فوزیہ اختر ادب میں عالم ادب ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مرکزی کولکاتا کے انجمن گرلس ہائی اسکول میں ہوئی اور یہاں سے انہوں نے درجہ دہم West Bengal Board of Secondary Education کے تحت پاس کیا ۔پھر بھوانی پور گجراتی کالج سے West Bengal Council of Higher Secondary Education سے بارہویں جماعت سکنڈ ڈیویزن میں پاس کیا اور پھر تشنگی علم انہیں Bangabasi Morning College لے گیا جہاں سے انہوں نے بی اس سی کی ڈگری حاصل کی۔ فوزیہ کو سائنس کی طالبہ ہونے کے ساتھ اردو سے اچھی خاصی رغبت تھی اور گویا شاعری ان کے خمیر میں شامل ہے شاعری کے اسرار و رموز ردیف یا قافیہ بحر و وزن سے پورے طور سے واقفیت ہے۔ موصوفہ نے آل انڈیا مشاعرہ تو کیا آن لائن عالمی مشاعرہ میں شرکت کر کے اپنے فن کا جادو دکھایا ہے۔ محترمہ فوزیہ اختر دراصل ترنم اور تحت دونوں میں اپنا کلام کہتی ہیں- ان کی ترنم میں کہی ہوئی غزلیں گویا سحر انگیز ہیں- کسی بھی مشاعرے میں فوزیہ اختر کی شمولیت سے بزم مشاعرہ کی رونق میں اضافہ ہوتا ہے۔ فوزیہ اختر اس کم عمری میں اپنے فن کا جادو دکھا رہی ہیں ۔یہ تو ان کی شاعری کے بچپن کا دور ہے اور مستقبل میں انکی شاعری جب شباب پر پہنچے گی تو محترمہ کیسے کیسے خیالات کا اظہار کریں گی-
کسی لڑکی کی کامیابی کی منزل پہ پہنچنا اور بلندی کو چھو لینا کسی لڑکے کے بہ نسبت زیادہ کٹھن اور مشکل ہے کیونکہ آج بھی ہندوستان کی تہذیب کہیں نہ کہیں male dominated society ہے اور لڑکی کو کامیابی کے ساتھ survive کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن فوزیہ اختر ردا بلندیوں اور انچی چوٹیوں پہ پہنچنے کےلئے کمند ڈال چکی ہیں۔ باری تعالٰی کے دربار میں سجدہ ریز ہو کر دعا کرتی ہوں کہ خدا انہیں کامیابی سے ہم کنار کر دے۔ ان کی زندگی کو خوشیوں اور اجالوں سے بھر دے- ہر دکھ، تکلیف، مصیبت پریشانی سے نجات دے اور موصوفہ یک سوئی سےاردو ادب کی خدمت کرتی رہیں اور کامیابی و کامرانی کا سفر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے- موصوفہ صرف شاعرہ ہی نہیں بلکہ کامیاب افسانہ نگار بھی ہیں۔ ان کی خوبصورت غزلوں کے چند اشعار قارئیں کی فن شناش نظروں کی نذر کرتی ہوں۔

کیوں دیکھ رہا ہے وہ مرے ہاتھ کو مل کر
اے دل تُو مرے ایسے سوالات کو حل کر

مخصوص کسی شکل میں اک ذات نہیں ہے
” آتی ہے تیری یاد کئی بھیس بدل کر“

چھایا ہے جبیں پر ترے بوسے کا تصور
خواہش یہ مری آ گئی ہونٹوں پہ مچل کر

میں دوڑتی پھرتی ہوں تری راہ میں جاناں
صد حیف کہ تُو خود کبھی آتا نہیں چل کر

اس دل میں تسلسل سے خیالات ہیں روشن
اشعار میرے خوب روانی میں ہیں ڈھل کر

محفل میں کہیں حرف نہ آجا ئے کسی پر
اب داد بھی دیتے ہیں ردا رشک سے جل کر

عورت کی فطرت میں حیا ہوتی ہے- اس کی سرشت میں وفا ہوتی ہے عورت ہی وہ شخصیت ہے جس سے عالم کی نیرنگیاں اور اس دنیا کی خوبصورتی قائم ہے جس سے دنیا حسین ہے لیکن پھر بھی صنف نازک کو کیسی کیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- گھنے جنگلوں کی صعوبتیں اور خاردار جھاڑیوں کی چبھن سنگلاخ زمین اور ناہموار راہوں کو عبور کرنا پڑتا ہے- اپنی شخصیت کا لوہا منوانے اور اپنے فن کو ثابت کرنے کے لئے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے اس سے نوجوان شاعرہ فوزیہ اختر ردا کس طرح اور کس زاوئے سے دیکھتی ہیں- ذیل کی نظموں سے صاف ظاہر ہے نظم قارئین کی نذر ہے-

نظم
۔۔۔۔
”ٹوٹی ہوئی عورت“
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی دلدوز قصہ ہے
جہاں عورت ہمیشہ سے
کبھی ششدر، کبھی بپھری
کبھی سنوری، کبھی نکھری
شرائط پر
ہوا سودا، کئی جام و سبو ٹوٹے
کئ راتیں ہوئیں کالی
کوئی دن بھی نہ گزرا چین سے اس کا
محاذ زندگانی پر مگر ثابت قدم ٹھہری
ہے عورت کی رواداری
نبھاتی ہے وفاداری
ملا جو کچھ زمانے سے
سنبھالا اپنے آنچل میں
کوئی تاویل لا کر دو
کوئ ثانی نہیں اس کا
کھرا ثابت ہوئی ہر آزمائش پر
مگر افسوس کوئی آبرو رکھے
دلِ مضطر میں کوئی جستجو رکھے
درختِ دل شگفتہ ہے
کہ اس میں پیار پھلتا ہے

 

بلاشبہ ایک حساس ذہنیت کی صنف نازک ہی نازک مزاجی کو سمجھتی ہے اور اسے فوزیہ نے اپنی اس نظم میں ظاہر کیا ہے۔
فوزیہ اختر کا تعلق شہر کولکاتا سے ہے- اپنا شہر کولکاتا علم و فن کا گہوارہ ہے تعلیم و تہذیب کا مرکز ہے- شہر نشاط کولکاتا اخلاقی رواداری کی مثال آپ ہے- تہذیب یہاں پھلی پھولی پروان چڑی ۔ادب سلیقہ شعائر ہندوستان کی دوسری ریاستوں نے ہم سے ہی تو سیکھا ہے۔ یہاں دیوالی، ہولی، عید، کرسمس کا تہوار سب ساتھ مناتے ہیں اس طرح برادران وطن کے ساتھ مل کر حب الوطنی اور قومی یکجہتی کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ نوجوان شاعرہ فوزیہ اختر کا ذہن اس قدر حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہے یہ ان کی نظم سے صاف ظاہر ہے ان کی یہ نظم جو ہولی کے عنوان سے ہے-
”ہولی“
۔۔۔۔۔
ہولی ہے بھئ ہولی ہے
رنگوں کی نگری کھولی ہے
یہ ست رنگوں کی ٹولی ہے
من ہی من میں جو ڈولی ہے
انداز ہیں اس کے مستانے
یہ دکھنے میں تو بھولی ہے
یہ سناٹوں سے گھبرا کر
اونچے سروں میں بولی ہے
پیاروں کے دلوں کی ڈوری میں
چاہت کی ریت پرو لی ہے
لال، گلابی، چمپئ، سرمئ
رنگوں کی ہمجولی ہے
اندھیارے میں چلنے کو
راہیں نئ ٹٹولی ہیں
اک پچکاری کے دھارے میں
اپنے رنگ بھی گھولی ہے
دن کے ہی اجیارے میں
شام کے ڈھنگ کو گھولی ہے
سرخی ہے گلال کی رخ پر
بھیگی بھیگی چولی ہے
بارش میں جب رنگ ہے اترا
تب جی بھر کر رو لی ہے
ہولی ہے بھئ ہولی ہے
رنگوں کی نگری کھولی ہے

صفحہ 117 پر صنف نازک کے حوالے سے ایک غزل رقم کرتی ہیں ملاحظہ کریں۔

منزلیں اور گام عورت ہے
در و دیوار , بام عورت ہے

لائقِ احترام عورت ہے
قابل احتشام عورت ہے

رونقِ صبح و شام عورت ہے
ابرِ رحمت کا نام عورت ہے

کس قدر تیز گام عورت ہے
رحمتِ خاص و عام عورت ہے

عمر میں چھوٹی ہو مگر چاہے
لفظ کہنا سلام , عورت ہے

ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے
"کتنی ”عالی مقام عورت ہے“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کی نہ شام ہو جائے
ختم ہو گر جو نام عورت ہے

طرز اِس کا سدا وفاداری
چلتا جس کا نظام عورت ہے

گر چہ کہلائ صاحبِ ادراک
پھر بھی وہ ایک عام عورت ہے

اُس رِدا کا کوئ جواب نہیں
وہ بڑی خوش کلام عورت ہے

شاعری احساس کی ترجمانی ہے جذبات کی عکاسی ہے شاعرہ کہ دل پر جو گزرتی ہے اسے صفحات پہ بکھیر دیتی ہے اور جو کچھ لکھا ہے یہ انکے جذبات کی عکاسی ہے ان کی شخصیت کا آئنہ دار ہے-

اس شہرِ نا مراد نے رسوا کیا مجھے
اپنی ہی اک فصیل میں چنوا دیا مجھے

ہر مرتبہ یقین کا اُس پر گماں ہوا
”ہر مرتبہ امید نے دھوکا دیا مجھے“

اس کو بھی آشنائی نہ بوئے وفا سے تھی
اس نے بھی اپنے پیار میں دھوکہ دیا مجھے

میرا یہی سوال ہے سارے جہان سے
میرا جو حق تھا کیوں نہیں دلوا دیا مجھے؟

مانا کہ اس جہاں میں ہے مکاریوں کا دور
معصوم ہستیوں نے بھی دھوکا دیا مجھے

آ جائے گی خبر کبھی فصلِ بہار کی
اس آرزو نے ہی ردا! بہلا دیا مجھے

فوزیہ اختر ردا شہر کولکاتا کی ابھرتی ہوئی نوجوان شاعرہ ہیں ۔ان کے پہلے شعری مجموعے سپتک میں تقریباً 64 غزلیں لکھی گئی ہیں جو اس حقیقت کا غماز ہے کے اس کمسنی میں اس نوجوان شاعرہ کے ذہن میں کیسے کیسے خیالات کا طوفان اٹھتا ہے اور ان کے قلم سے کیا کچھ نکلتا ہے سب سے پہلے حمد باری تعالی ہے ملاحظہ کریں۔۔۔

حمد باری تعالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توحید کے پرچم پہ لکھا نام خدا ہے
ہر سمت زمانے میں یہی ایک صدا ہے

اول بھی ہے تو آخر بھی ہے یا رب
ایک ذات ہے تیری ہی سدا جس کو بقا ہے

ہر ذرہ میں موجود تیری ذات کی خوشبو
ہو جن کہ بشر ہر کوئی مصروف ثنا ہے

پابند سلاسل سے ہے یوسف کو نکالا
یعقوب کی آنکھوں میں بھی تیری ہی ضیاء ہے

یارب کہ میری ذات میں خوبی نہیں کوئی
مجھ پر جو کرم ہے وہ عطائوں سے ہوا ہے

موسی پہ تجلی کی کرامت ردا ہیں
اور احمد مختار کو معراج عطا ہے

یہ کتاب 127 صفحات پر مشتمل ہے- حمد باری تعالٰی میں موصوفہ خدا کے دربار میں لو لگائی ہوئی بار گاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر یہ اشعار کہتی ہیں۔

یارب کہ میری ذات میں خوبی نہیں کوئی
مجھ پر جو کرم ہے وہ عطاؤں سے ہوا ہے

آپ کی کتاب صفحہ 21 پر آپ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نعت کو پڑھ کر روح پرور منظر سامنے آجاتا ہے

کمتر کو رب نے آن میں برتر بنایا
ذرے سے قیمتی مجھے گوہر بنا دیا

ذرہ کو آپ نے مہہ انور بنا دیا
اور خار کو بھی پھول کا بستر بنا دیا

کیوں رشک آفتاب ہوں یہ جان بھی تو لو
میرے نبی نے میرا مقدر بنا دیا

آقا نے اپنی خاک کف پا کے فیض سے
ہر اک غبار دشت کو گوہر بنا دیا

ان کی کنیز بن کے رہی گی وہ عمر بھر
ایسا ردا کا رب نے مقدر بنا دیا

فوزیہ اختر ردا نے کیا خوب غزلیں کہی ہیں- غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔

دل کو ترے خیال سے بہلا رہی ہوں میں
الجھن کو آب و تاب سے سلجھا رہی ہوں میں

موجوں کے اضطراب سے گھبرا رہی ہوں میں
ساحل سے بار بار ہی ٹکرا رہی ہوں میں

بکھری ہے میری روشنی چاروں طرف مگر
کیوں آئینے کے سامنے دھندلا رہی ہوں میں

اِک شخص کیا چلا گیا گلشن کو چھوڑ کر
اِس موسمِ بہار میں کُملا رہی ہوں میں

سنتا نہیں ہے عقل کی یہ بات فوزیہ
دل کو اگرچہ پیار سے سمجھا رہی ہوں میں

مجھ سے جو چھپ گیا تھا وہ منظر میں آ گیا
وہ اس طرح ملا کہ مقدر میں آ گیا

دیوانگی کا شور مرے سر میں آ گیا
”دستک دئیے بغیر مرے گھر میں آگیا“

تھا جس کو پارسائ پہ اپنی بہت ہی ناز
کیا ہو گیا کہ آج وہی شر میں آ گیا

شکوے شکایتوں کا ہے ہنگامہ ہر طرف
یہ کیسا انقلاب ہر اک گھر میں آ گیا

یہ کون میری راہ کے پتھر سمیٹ کر
ایسا گرا زمانے کی ٹھوکر میں آ گیا

ناراضگی کا اس کو ردا اتنا خوف تھا
وہ روٹھنے پہ حالتِ ابتر میں آ گیا

ان کہی بات کی حسرت کرنا
ہم کو آیا نہ محبت کرنا

یہ ہے اندازِ تغافل شاید
”مسکراتے ہوے رخصت کرنا“

طور اپنا ہے وفا کا لیکن
آزمانے کی جسارت کرنا

معجزہ آپ کا ملنا ہے مگر
کم نصیبی ہے خجالت کرنا

جس کی تعبیر ادھوری سی ہے
تم نہ اُس خواب کی حاجت کرنا

تھام لینا کبھی بڑھ کر دامن
پھر بچھڑ جانے کی عجلت کرنا

چند اشکوں کو بچا لینا تم
جب مری یاد کی رغبت کرنا

تم تو آنکھیں ہی نہیں پڑھتے ہو
کیا سراپے کو بصارت کرنا ؟

آج تم خواب میں آنا لیکن
مجھ سے غفلت کی نہ حرکت کرنا

پل میں چہرہ جو نکھر اٹھتا ہے
تجھ کو دیکھوں تو نہ حیرت کرنا

آئینہ منتظر ہے فوزی جب
کیوں بھلا عکس سے نفرت کرنا

اخیر میں، میں فوزیہ اختر ردا سے ان کی شاہکار تخلیق سپتک پہ تہ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہوں- اللہ کرے کہ شہر کولکاتا کی ابھرتی ہوئی عالمی شہرت یافتہ شاعرہ ادبی دنیا میں ایک منصب شناخت پا لے ان شاء اللہ مستقبل میں بھی کامیابی ان کے قدم چومے- یقینا فوزیہ کی شخصیت اس شعر کے مصداق ہے –

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ان کی غزلیں دل کو چھولیتی ہیں اور دل کی گہرائیوں میں اترتی ہیں- بلاشبہ صنف نازک کی خوبصورت آواز میں آج اس نوجوان اور کم سنی میں فوزیہ اپنے فن کا جادو دکھا رہی ہیں ۔مستقبل میں اپنے شہر کی اس شاعرہ سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں- میری نیک دعائیں اور خواہش میری چھوٹی بہن کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے اور ان شاء اللہ فوزیہ وہ شخصیت ہے جسے کامیاب خود بڑھ کر قدم چوم لے گی-

میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے
تجھ کو جانا ہے اونچا حد پرواز سے

فوزیہ کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ ہم کولکاتا کے لئے باعث فخر ہے کہ ایسی ادبی شخصیت شہر نشاط میں بلند ہوئی جو عالمی مقبولیت کی حامل ہے

فوزیہ اختر ردا کے قد کو سمجھنے کےلئے اہل کولکاتا کافی ہیں۔اور یہ تحقیق شدہ ہے کہ فوزیہ ایک قد آور شخصیت کی حیثیت سے ادبی افق پہ جلوہ گر ہو رہی ہے جن کے لئے عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

ہمارے قد کو یہ درزی کا فیتا کیا بتائے گا
کبھی آنا بنگال میں آنا تو کلکتہ بتائے گا

ان کی شاعری کا یہ بچپن کا دور ہے اور یہ ننھا سا تخم جب تناور درخت بن جائے گا تو نہ جانے کیسے کیسے کمالات کا اظہار کرے گا۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ:ایس آر میڈیا پیج

غزل
۔۔۔۔۔
مرے کمرے میں واحد شے نظر بھر کا اثاثہ تھی
تری تصویر دھندلی سی فقط زر کا اثاثہ تھی
سمٹ کے رہ گئی مجھ میں تخیل کی فراوانی
تمھاری یاد ہی گویا مرے گھر کا اثاثہ تھی
وہ مجھ سے دور جا کر بھی مرے ہی پاس لوٹا تھا
ملن کی چاہ اے فوزی مرے سر کا اثاثہ تھی
مرے اس من کے درپن میں دریچے سوچ کے وا تھے
مری اس روح کی پرواز ہی پر کا اثاثہ تھی
تمھیں بھی ڈھونڈ لائے گا تمھارا یہ دوانہ پن
محبت آخری میری اسی در کا اثاثہ تھی
نہ تھا منظور قسمت کو وگر نہ خیر ہونا تھا
جدائی تجھ سے اے ظالم کسی شر کا اثاثہ تھی
اسی احساس سے دل کو ردا اک خوف لاحق تھا
بچھڑنے کی سزا ہی تو مرے ڈر کا اثاثہ تھی

غزل
۔۔۔۔۔
تم کبھی ایسے مرے دل میں اُتر جاتے ہو
میں تمھیں دیکھتی رہ جاؤں تو مر جاتے ہو
تم مرے پاس ہی آکر مرا چہرہ دیکھو
”تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مرجاتے ہو“
حوصلہ دل کا مرے پہلے بڑھاتے کیوں ہو؟
راس آجائے محبت تو مُکر جاتے ہو
جان لو عشق میں جچتا نہیں ایسا کرنا
رہ کی پرخار سی وادی میں ٹھہر جاتے ہو
دل محبت کے بنا ہی جو گزارا کر لے
ان خیالوں کے ستانے سے ہی ڈر جاتے ہو
تم جو الزام نگاہوں سے بیاں کرتے ہو
تم سر عام شکایات بھی کر جاتے ہو
یاد آنے کی گھڑی سب سے جدا ہوتی ہے
تم ردا کے ہی خیالوں میں نکھر جاتے ہو

غزل
۔۔۔۔۔
محو حیرت ہے یہ جہاں کیسے
دیکھو اجڑا ہے آشیاں کیسے
درد آنکھوں سے ہو بیاں کیسے
اشک پلکوں پہ ہو رواں کیسے
مجھ سے کردار نے یہ پوچھا ہے
روٹھ جاتی ہے داستاں کیسے
بات دل کی جو تم سے کہنی تھی
وہ رہی آج تک نہاں کیسے؟
تیرے ہوتے ہوئے بتا مجھ کو
میری منزل ہے بے نشاں کیسے
جب محبت دلوں میں زندہ تھی
بھول جاؤں میں وہ سماں کیسے
صبر آ ہی گیا ردا کو مگر
دیکھ نکلی ہے اس کی جاں کیسے

مظفر نازنین

Previous Post

مستقبل کی وہ دس نوکریاں جو آپ کی تقدیر بدل سکتی ہیں

Next Post

مانو میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس میں ایم ٹیک و بی ایس سی فیشن ٹیکنالوجی میں داخلے کی آخری تاریخ میں توسیع

Next Post
مانو میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس میں ایم ٹیک و بی ایس سی فیشن ٹیکنالوجی میں داخلے کی آخری تاریخ میں توسیع

مانو میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس میں ایم ٹیک و بی ایس سی فیشن ٹیکنالوجی میں داخلے کی آخری تاریخ میں توسیع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist