نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپوزیشن کو’’بے مقصد ‘‘ قرار دیتے ہوئے ’’انڈین مجاہدین‘‘ اور ’’پاپولر فرنٹ آف انڈیا‘‘ کہا اور حزب اختلاف کے اتحاد ’’ انڈیا‘‘ پر طنز کیا۔ بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی ہفتہ وار میٹنگ میں وزیر اعظم کے حوالے سے کہا کہ ’’میں نے ایسی بے مقصد اپوزیشن کبھی نہیں دیکھی۔‘‘ مودی نےاپوزیشن کے اتحاد’’ انڈیا‘‘ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’انڈیا، ہندوستانی قومی ترقیاتی اتحاد کا مخفف ہےلیکن وہ انڈیا کی نہیں بلکہ اپنی ہی تعریفیں کرتے رہتے ہیں جبکہ انڈین نیشنل کانگریس، ایسٹ انڈیا کمپنی، انڈین مجاہدین، پاپولر فرنٹ آف انڈیا بھی انڈیا ہی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ صرف ’’انڈیا‘‘ کا نام استعمال کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ملک کا نام استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
واضح رہے کہ اپوزیشن وزیر اعظم نریندر مودی سے منی پورسانحہ پر پارلیمنٹ میں بیان دینے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ مودی نے اس پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو شکست خوردہ اور مایوس قرار دیا اور کہا کہ ان کے پاس ’’مودی کی مخالفت‘‘ کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہے، اور یہی اپوزیشن کا یک نکاتی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے بڑے یقین سے کہا کہ بی جے پی عوام کی حمایت سے ۲۰۲۴ء کے انتخابات آسانی سے جیت جائے گی۔
کچھ گھنٹوں بعد کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے بیان پر ٹویٹر پر پوسٹ کیا کہ ’’آپ ہمیں جو چاہیں بلا لیں،مودی جی۔ ہم انڈیا ہیں۔ ہم منی پور کے حالات بہتر کرنے اور وہاں کی ہر خاتون اور بچے کے آنسو پونچھنے میں مدد کریں گے۔ ہم وہاں کے عوام کیلئے محبت اور امن بحال کریں گے۔ ہم منی پور میں ہندوستانی نظریات کو دوبارہ قائم کریں گے۔‘‘
خیال رہے کہ منی پور میں جاری تشدد پارلیمنٹ میں بھی موضوع بحث ہے۔
مانسون سیشن کے آغاز سے پہلے مودی نے منی پور کے تعلق سےکہا تھا کہ ان کا دل غم اور غصے سے بھرا ہوا ہےاور یقین بھی دلایا تھا کہ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گااور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس بیان پر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منی پور سانحہ پر وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جامع بیان دینا چاہئے۔