ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

منی پور کا تشدد:فسانہ اور حقیقت

Rubina by Rubina
جولائی 25, 2023
in بھارت, سیاست
356 0
0
منی پور کا تشدد:فسانہ اور حقیقت
587
SHARES
382
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پروفیسر عتیق احمدفاروقی
منی پور کا تشدد موجودہ دور میں کچھ دردناک واقعات کی یاد دلاتے ہیں :بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک کے مختلف حصوںمیں رونماہونے والے فسادات، گجرات کی نسل کشی ، اونا میں دلتوں کی پٹائی، دادری میں اخلاق کی لنچنگ ، ہاتھرس میں دلت دوشیزہ کی اجتماعی آبروریزی اورقتل، دہلی کا نربھیاسانحہ ،کٹھوعہ کی آٹھ سالہ بچی آصفہ کی اجتماعی عصمت دری اورپولیس کی حراست میں عتیق واشرف کا قتل وغیرہ ۔ ان اندوہناک واقعات کی نوعیت مختلف تھی، لیکن ان کے نتائج اوراثرات یکساں تھے۔ کچھ میں انتظامیہ اورپولیس اہلکاروںکے شامل ہونے کا الزام تھا اورکچھ میں خالص مجرمین کی شمولیت تھی، لیکن تمام معاملات میںدوباتیں واضح ہیں کہ انتظامیہ سست اورلاپرواہ تھی اورسارے واقعات انسانیت کو شرمسار کرنے والے تھے۔دراصل ڈھائی مہینہ سے زیادہ عرصہ سے منی پور تشدد کی آگ میں جل رہاہے۔ بظاہر یہ دوبرادریوں ،میتئی اورکوکی کا جھگڑاہے۔ کوکی طبقہ منی پور میں سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کیلئے لڑرہاہے جو عیسائی اقلیت سے تعلق رکھتاہے اورمیتئی طبقہ جو ہندو مذہبی اکثریت سے تعلق رکھتاہے، اس ریزرویشن کے مطالبہ کی مخالفت کررہا ہے۔ منی پور حکومت میںمیتئی برادری کی اکثریت ہے اور وہاں کے وزیراعلیٰ بیرین سنگھ کاتعلق بھی میتئی طبقہ سے ہے۔ جس واقعہ نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اورانسانیت کوشرمسار کردیا۔ 4مئی کاہے۔ جس کا ویڈیو 19جولائی کو وائر ل ہوا۔معاملہ یوں ہے کہ چار مئی کو تین خواتین اوردومرد جن کا تعلق کوکی برادری سے تھا، وہ فسادیوں سے بچنے کیلئے جنگل کے راستے محفوظ مقام کی جانب جارہے تھے۔ انہیں پولیس کی ایک ٹیم ملی ۔ پولیس نے انہیں تحفظ فراہم کیا اورانہیں بچاتے ہوئے آگے لے جانے لگی، لیکن راستے میں قریب ہزار لوگوں کی بھیڑنے انہیں گھیرلیا اوران پانچ لوگوں کے ساتھ پولیس پر بھی حملہ کردیا۔ ایک الزام یہ بھی سامنے آیاہے کہ پولیس نے خود ہی انہیں بھیڑکے حوالے کردیا اورالگ ہوگئی جبکہ دوسری اطلاع یہ ہے کہ پولیس پر حملہ کردیاگیا اوران لوگوں کو ان سے چھین لیاگیا۔ دراصل دونوں ہی صورتوں میں پولیس کو تو ذمہ داری لینی ہوگی۔ اس واقعہ میں کہیں بھی پولیس والوں کی ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ گروپ میںشامل 56سالہ شخص کو پہلے ملتے ہی ہلاک کردیاگیا۔ جبکہ 19سالہ نوجوان اپنی بہن کی عصمت بچانے کی کوشش میں لڑتاہوامارا گیا۔ پھران تین میں سے دوخواتین کی پہلے اجتماعی عصمت دری کی گئی اوربعدازاں دونوں کو برہنہ حالت میں سڑک پر گھمایاگیااوراس درمیان ہجوم نے بھی ان کے ساتھ نازیباحرکت کی۔
جب ووہ ویڈیو چیف جسٹس وائی وی چندرچوڑ نے دیکھا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اورانہوں نے دو ٹوک کہا، ’’اگرحکومت اس معاملے میں کارروائی نہیں کرتی ہے تو ہم خود کریں گے۔ ‘‘جسٹس چندر چوڑ کے اس بیان کے بعد تقریباً تین ماہ سے خاموش حکومت کی زبان پھوٹی اوروزیراعظم نریندرمودی نے کہاکہ’’ منی پور میں خواتین کے ساتھ جو سلوک ہواہے اس نے ملک کے 140 کروڑ عوام کو شرمسار کیاہے۔ ‘‘پھرکیاتھا ریاست کے وزیراعلیٰ جو مہینوں سے سورہے تھے اچانک جاگ گئے اوراسی دن چندمجرموں ، جوویڈیو میں نظرآئے ان کوگرفتار بھی کرلیاگیا۔ جب ایک پریس رپورٹرنے اس واقعہ کے تعلق سے ریاست کے وزیراعلیٰ سے سوال پوچھا توانہوں نے بے شرمی والا جواب دیااورکہاکہ ریاست میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہواہے ۔اس سے قبل بھی اس طرح کے سیکڑوںگھناؤنے واقعات پیش آچکے ہیںاوران کی ایف آئی آربھی درج ہوچکی ہے۔ اس سانحہ نے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے۔ وزیراعظم مودی منی پورکے معاملے پر قریب تین ماہ خاموش کیوں تھے؟ اس دوران ریاست کے وزیراعلیٰ بیرین سنگھ کیاکررہے تھے؟ پوری ریاست جل رہی تھی جس کی متعدد رپورٹ وہاں کے گورنر نے مرکز کو دی تھی ، پھربھی وزیراعظم نے منی پور کا دورہ کیوںنہیں کیا؟ جب بنگال میں تشدد بھڑکاتھا تو مودی جی نے وہاں اپنی ٹیم بھیجی تھی ، منی پور کے حالات اس سے بدترتھے ، وہاں پر انہوں نے کوئی ٹیم کیوں نہیں بھیجی ؟ امت شاہ نے منی پور کا تین چار روز کادورہ ضرور کیا تھا،لیکن وزیراعلیٰ اورافسران سے میٹنگ کرکے وہ دہلی واپس آگئے تھے۔ملک کے وزیرداخلہ کی حیثیت سے انہوںنے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تھا۔
دراصل منی پورمیں مسئلہ صرف ریزرویشن کا نہیں تھا ۔ بلکہ ملک میں ریزرویشن کے مسئلے پر پہلے بھی تشدد ہوئے ہیں، لیکن اتنے وسیع پیمانے پر کبھی نہیں ہوئے۔ یہ واقعہ گجرات کی نسل کشی سے کافی مشابہت رکھتاہے۔ گجرات میں بلقیس کے خاطیوں نے ایک طبقہ کو سکھانے کیلئے بلقیس بانو کو نشانہ بنایاتھا جس میں پولیس نے بھی ان کے ساتھ تعاون کیاتھا۔ فسادیوں کی سیاسی سرپرستی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اب ایک بار پھر اسی طرح کی شرمناک واردات منی پور میں انجام دی گئی ہے۔ وہاں بھی وہی پرانا انداز یعنی پولیس کا فسادیوں کے ساتھ تعاون اوران کی سیاسی سرپرستی ، دیکھنے کو ملی ۔ فرق اتناہے کہ وہاں مسلمانوں کو سبق سکھاناتھااوریہاں کوکی طبقہ کے عیسائیوں کو نشانہ بنایاگیاہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ عوام کے ایک طبقہ کو مذہبی افیم کھلاکر بیہوش کردیاگیاہے اوروہ ان واقعات سے خوش ہیں اورمودی جی کے انتخابات میں فتحیابی کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ سب کچھ نہیں ہوتا اگرعوام اس کے خلاف آواز بلند کرتے اوراحتجاج کرتے۔ اگرآج منی پور جل رہاہے تو اس کے ذمہ دار خاموش رہنے والی سیاسی جماعتوں سے زیادہ چپی سادھنے والے عوام ہیں۔ دیکھنے میں آیاہے کہ اس طرح کی گھناؤنی حرکت کرنے والے خاطیوں کو حکومت نے عہدے دے کر ان کا حوصلہ بڑھایاہے۔ اگرسزا ملتی ہے تو انہیں زیادہ دنوں تک پیرول پر رکھاجاتاہے، یا اس سے پہلے انہیں جیل سے رہاکردیاجاتاہے اورجیل سے باہر آنے پر ان کی گلپوشی ہوتی ہے اورمٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔
چنددنوں قبل یوروپی یونین میں منی پور کے تعلق سے بحث ہوئی اوروہاں کے حالات پر تشویش کااظہار کیاگیا۔ دوسری جانب ہندوستان میں امریکہ کے سفیر نے کہا کہ اگرمنی پور کے حالات قابو میں نہیں آرہے ہیںتو امریکہ اس کی مددکرسکتاہے۔ ہندوستان جیسا ملک جس کے پاس فوج اورپولیس کی اتنی بڑی طاقت ہے اس کے معاملات میں بیرونی ملک کے لوگ دخل اندازی کریں،یہ بات قابل شرم ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ نریندرمودی اورامت شاہ جاگ جائیں اورسیاست سے بالاترہوکر منی پور کے تعلق سے سخت سے سخت قدم اٹھائیں، وہاں کے وزیراعلیٰ کو برخاست کریں ، صدر راز قائم کریں اورعدالت میں منصفانہ پیروی کرکے خاطیوں کو عبرتناک سزادلوائیں۔

 

Previous Post

منی پور تشدد: وزیراعلیٰ پر تائید کا الزام ،امپھال میں فائرنگ

Next Post

کیمیاوی کھاد کی فراہمی کیلئے اہم پیش قدمی : نریندر سنگھ تومر

Next Post
کیمیاوی کھاد کی فراہمی کیلئے اہم پیش قدمی : نریندر سنگھ تومر

کیمیاوی کھاد کی فراہمی کیلئے اہم پیش قدمی : نریندر سنگھ تومر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist