ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

کرناٹک:مودی کرشمہ اور کھڑگے کے درمیان مقابلہ

Rubina by Rubina
اپریل 5, 2023
in بھارت, سیاست
657 0
0
کرناٹک:مودی کرشمہ اور کھڑگے کے درمیان مقابلہ
764
SHARES
578
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ریاست میں 10 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اس کے نتائج 13 مئی کو آئیں گے۔ سیاسی جماعتوں نے تمام تیاریوں کے ساتھ الیکشن جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا دور بھی جاری ہے۔ سیاسی ہلچل کے درمیان چند ایسے ایشوز ہیں جو پورے الیکشن پر حاوی ہیں۔ کرناٹک کا الیکشن انہی ایشوز کے گرد گھومے گا۔ اپوزیشن ہو یا حکمراں جماعت، ہر کوئی ان ایشوز کو زور و شور سے اٹھا رہا ہے۔
بی جے پی نے کرناٹک اسمبلی الیکشن میں بھی برسوں سے آزمودہ ہندو-مسلم ایشو کے سہارے اپنی کشتی پار لگانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اسمبلی الیکشن سے عین قبل ریاست کے مسلمانوں کو ملنے والے 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کے اعلان سے بی جے پی کی منشا اور پلاننگ واضح طور پر سامنے آ گئی ہے۔ ٹیپو سلطان اور حجاب جیسے ایشوز کے بعد پارٹی نے ریاست کی بساط میں ایک نیا اور گرما گرم مسلم ریزرویشن کا مہرہ آگے بڑھا دیا ہے۔ ٹیپو سلطان کا ایشو تو بہت پرانا ہے لیکن کرناٹک جیسی پارٹی کی نئی تجربہ گاہ میں حجاب کا پانسا محض ایک سال قبل یوپی اسمبلی الیکشن کے دوران پھینکا گیا اور یہ بہت حد تک کامیاب ثابت ہوا۔ اب مسلم اور دلت ریزرویشن پر دائو لگایا گیا ہے۔ فی الحال کرناٹک میں ریزرویشن کے 2 ایشوز بہت گرم ہیں۔ اس میں پہلا مسلم ریزرویشن ہے۔ کچھ ہی دنوں قبل یعنی 27 مارچ 2023 کو کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے لیے مختص 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کر دیا تھا۔ صوبہ کی تقریباً 13 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے اس فیصلہ کے بعد سیاسی ماحول کافی گرم ہوگیا ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس ریاست کی دونوں ہی اہم اپوزیشن پارٹیوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ اسمبلی الیکشن کے بعد ریاست میں ان کی حکومت بنتی ہے تو وہ اس ریزرویشن کو دوبارہ نافذ کریں گی۔ جبکہ بی جے پی اس وعدے کو کانگریس اور جے ڈی ایس کی ووٹوں کی سیاست قرار دے رہی ہے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کو سماجی طور پر پسماندہ سمجھتے ہوئے سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن پہلی بار 1994 میں ایچ ڈی دیوے گوڑا کی حکومت میں دیا گیا تھا۔
ریزرویشن کا دوسرا ایشو بنجارہ برادری سے وابستہ ہے۔ کرناٹک حکومت نے مسلم کمیونٹی کے اس 4 فیصد ریزرویشن کو 2 بڑی برادریوں ویرشیو- لنگایت اور ووکلیگا میں تقسیم کر دیا ہے۔ پہلے ووکلیگا کمیونٹی کو 4 فیصد ریزرویشن ملتا تھا، اسے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ پنچمسالیوں، ویرشیووں کے ساتھ دیگر لنگایت زمرے کے لیے اب7 فیصد ریزرویشن ہوگا۔ پہلے یہ 5 فیصد تھا۔ ریاست کی بنجارہ برادری اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ جیسے ہی فیصلہ آیا، اس برادری کے لوگوں نے بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ بی ایس یدی یورپا کے گھر اور دفتر پر مظاہرہ کیا اور پتھراؤ بھی کیا۔ بنجارہ برادری کا کہنا ہے کہ درج فہرست ذاتوں کے ریزرویشن میں کمی کی گئی ہے۔ ریاست میں ان کی تعداد تقریباً 20 فیصد بتائی جاتی ہے ۔ پہلے انہیں 17 فیصد ریزرویشن مل رہا تھا۔ 27 مارچ 2023 کو دلتوں کے لیے ریزرویشن کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ وہ اسی بات پر ناراض ہیں۔
ٹیپو سلطان کو لے کر کرناٹک میں ہمیشہ سے سیاست گرم رہی ہے۔ اسمبلی الیکشن سے پہلے یہ ایشو پھر گرم ہو رہا ہے۔ یہ تنازع 2015 سے چل رہا ہے، جب اس وقت کی کانگریس حکومت نے ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بی جے پی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ اب بی جے پی نے ایک نیا دعویٰ کیا ہے کہ ٹیپو سلطان کو ووکلیگا کمیونٹی کے لوگوں نے مارا تھا اور یہ کہ ٹیپو سلطان آزادی پسند نہیں تھے۔ کرناٹک میں ووکلیگا کمیونٹی کے تقریباً 14 فیصد ووٹ ہیں۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی ٹیپو سلطان کا ایشو اٹھا کر برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس اب بھی ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش مناتے ہیں، جبکہ بی جے پی نے 2019 میں حکومت بنانے کے بعد ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش نہ منانے کا فیصلہ کیا۔ بی جے پی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹیپو سلطان سے متعلق سیکشن کو اسکول کے نصاب سے ہٹا دیا جائے گا۔ حالانکہ بعد میں وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ ایسا کوئی خیال نہیں ہے۔ وہ حصہ نصاب سے نکال دیا جائے گا جو کہ بے بنیاد اور خیالی ہے۔
کرناٹک میں 2021 سے حجاب کا ایک نیا تنازع شروع ہوا ہے۔ یہاں کے اڈوپی کے گورنمنٹ کالج میں حجاب پہن کر آنے والی 6 طالبات کو کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ یہاں سے شروع ہونے والا احتجاج ریاست اور پھر ملک بھر میں پھیل گیا۔ فروری 2022 میں ہندو طلبا احتجاجاً بھگوا کپڑا پہن کر اڈوپی ہی کے ایک کالج میں آئے۔ اسکولوں میں جے شری رام کے نعرے لگائے گئے۔ فروری 2022 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس نہیں پہنا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ مارچ میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ حجاب مذہبی طور پر ضروری نہیں ہے، اس لیے اسے تعلیمی اداروں میں نہیں پہنا جا سکتا۔ فروری 2023 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ اس پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں مسلسل 10 دن تک سماعت ہوئی۔ اب بھی یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ یہ ایشو سیاسی طور پر حاوی ہو گیا ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس نے اسے انتخابی ایشو بھی بنایا ہے۔
ایک اور عوام سے وابستہ مسئلہ کو انتخابی ایشو بنایا جا رہا ہے اور وہ ہے بدعنوانی کا ایشو۔ کانگریس اور جے ڈی ایس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں نے بدعنوانی کے معاملے پر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ راہل گاندھی نے ایک ریلی کے دوران الزام لگایا تھا کہ کرناٹک میں 40 فیصد کمیشن لے کر کام کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں بی جے پی کے ایک ایم ایل اے کے بیٹے کو ویجیلنس نے رشوت لیتے ہوئے پکڑا تھا۔ اس کے بعد ایم ایل اے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کانگریس اور اپوزیشن کی دیگر پارٹیاں اس ایشو کو خوب زور شور سے اٹھا رہی ہیں۔ ان کاالزام ہے کہ بی جے پی حکومت میں بدعنوانی زوروں پر ہے اور یہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ جبکہ بی جے پی لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف بی جے پی حکومت میں ہی ہو سکتا ہے کہ حکمراں جماعت کا لیڈر رشوت لیتے ہوئے پکڑا جائے۔
2023 کے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن بالخصوص کانگریس بی جے پی کے خلاف کتنی اور کہاں کھڑی ہوگی، اس کی تصویر کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج سے کافی حد تک واضح ہو جائے گی۔ اگر کانگریس کرناٹک میں حکومت بناتی ہے، جہاں بی جے پی حکومت ایک مضبوط ’اقتدار مخالف لہر‘ سے لڑ رہی ہے، تو کانگریس مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ کے بعد کے انتخابات میں بی جے پی کو سخت چیلنج دینے میں کامیاب ہوگی اور اگر مودی کا کرشمہ بی جے پی کو مدد دیتا ہے، اگر وہ ریاست میں اقتدار میں واپس آتی ہے تو نہ صرف کانگریس بی جے پی سے کمزور ثابت ہوگی بلکہ اپوزیشن کی سیاست میں اس کا غلبہ بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ بہرحال کرناٹک میں بی جے پی کے مودی کرشمہ اور کانگریس کے کھڑگے کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ سیاسی طور پر راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کانگریس کے لیے کتنی سود مند ثابت ہوئی، اس کا بھی اس جنوبی ریاست کی سرزمین پر امتحان ہوگا۔

 

Previous Post

دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے!

Next Post

وقت کرتا ہے پرورش برسوں…

Next Post
وقت کرتا ہے پرورش برسوں…

وقت کرتا ہے پرورش برسوں…

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist