ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

حمنہ کبیر: ’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘

Rubina by Rubina
جنوری 30, 2023
in بھارت, سیاست
765 0
0
حمنہ کبیر: ’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘
345
SHARES
561
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

حمنہ کبیر
جمہوریت کا ’لڑکھڑاتا‘ چوتھا ستون یعنی میڈیا بھلے ہی آپ کو بھارت جوڑو یاترا کی کوریج نا دکھا رہا ہو لیکن حقیقت میں اس یاترا نے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ عام ہندوستانی اس بات کے لئے قابل رحم ہیں کہ جب بھی ان کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی تحریک شروع کی جاتی ہے تو بجائے ان کے مسائل کو حکومت تک پہنچانے کے ، میڈیا کا ایک خاص طبقہ تحریک اور ان سے جڑے لوگوں کے خلاف ہی پروپیگنڈا کرنے میں اپنی پوری طاقت جھونک دیتا ہے۔ ان کے “خبری لال’ عوام کی طرف سے ہورہے احتجاج یا تحریک کی خبر بنانے نہیں بلکہ اس کی’‘خبر لینے‘ پہنچ جاتے ہیں۔ شاہین باغ احتجاج اور کسان تحریک اس کی تازہ مثال ہیں۔ کس طرح پرامن طریقے سے ہورہے احتجاج کو اسی خاص طبقے کے میڈیا نے منفی اور ملک مخالف تحریک کا نام دیا تھا۔ احتجاج میں شامل عوام سے اوٹ پٹانگ یا اشتعال انگیز سوالات پوچھ کر انہیں مشتعل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ بعد میں عوام کی باتوں کو کاٹ چھانٹ کر ٹی وی پر دکھایا جاتا تھا اور ناظرین کے دل و دماغ میں شاہین باغ اور کسان تحریک کے خلاف نفرت انگیزی ڈالی جاتی تھی۔ میڈیا کا یہی رویہ دیکھتے ہوئے جہاں عوام اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے حکومت کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں انہیں احتجاج سے جڑی فیک خبروں کی تردید اور صحیح خبر دکھانے کے لئے مجبوراً ایک اضافی محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا ، کسان احتجاج کے دوران میڈیا کی طرف سے بارہا جھوٹی خبریں دکھائے جانے سے تنگ قابل رحم کسان بھائیوں کو سوشل سائٹس پر اپنا ایک الگ پیج / چینل بنانا پڑا تھا۔ جہاں وہ صحیح خبریں دکھانے کے ساتھ ہی ان خبروں کی تردید بھی کیا کرتے تھے جو تحریک کو بدنام کرنے کی نیت سے دکھائی جاتی تھیں۔
راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے ساتھ بھی میڈیا والوں نے اپنا یہی کھیل جاری رکھا۔ یاترا کے ابتدائی دور میں کانگریس اور راہل گاندھی کو مذاق اور تنقید کا خوب نشانہ بنایا گیا، جس میں ملک کی میڈیا پیش پیش رہا۔یہاں تک کہ راہل گاندھی کے کھانے ، پینے، پہننے پر بے بنیاد سوالات تک اٹھائے گئے لیکن یہی تنقید ، مذاق اور لگاتار دکھائی جانے والی خبروں کو بار بار گھسیٹنے سے کہیں نا کہیں یاترا عوام کے درمیان مقبول بھی ہوئی۔ میڈیا کے منفی رویے کا اندازہ راہل گاندھی کو یقیناً پہلے سے تھا۔ امید کے عین مطابق میڈیا کا ایک خاص طبقہ بھارت جوڑو یاترا کے خلاف خبریں دکھاتا رہا جن کی تردید راہل گاندھی اور ان کی ٹیم مسلسل کرتی رہی اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس ، پریس کانفرنس، علاقائی اخبارات اور چینلز کے سہارے یاترا سے جڑی اپ ڈیٹس کو عوام تک پہنچاتی رہی۔
7 ستمبر 2022 سے جاری راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی اس یاترا کا مقصد مہنگائی ، نفرت انگیزی اور بے روزگاری کے خلاف عوام کو متحد کرنا تھا۔ اس یاترا میں عوام کی ایک بڑی تعداد بالخصوص نوجوان، سماجی تنظیموں سمیت ملک کی کئی اہم اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کرکے یاترا کی حمایت کی۔ سنجے راؤت، یوگیندر یادو، پوجا بھٹ، سوارا بھاسکر، کمل ہاسن، فاروق عبداللہ، پرکاش راج وغیرہ جیسے مختلف شعبوں سے جڑے لوگ بھارت جوڑو یاترا میں شریک ہوئے۔
اس پوری یاترا کے دوران راہل گاندھی کی طرف سے اس بات کی کئی دفعہ یاد دہانی کرائی گئی کہ اس کا مقصد عوام کو جوڑنا اور ملک سے نفرت انگیزی کو ختم کرنا ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد بھلے ہی سیاسی مفاد نا بتایا جارہا ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عرصے سے سستی کا شکار کانگریس اب متحرک نظر آنے لگی ہے۔ سردی ، بارش ، برف باری، تنقید، تضحیک کی پرواہ کئے بغیر بھارت جوڑو یاترا اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہے۔ یاترا کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کو خیرآباد کہہ کر جو لیڈران جاچکے تھے، اب وہ کانگریس کی طرف دھیرے دھیرے لوٹنے لگے ہیں۔ جس کا کانگریس نے خیر مقدم کیا ہے۔ خبروں کے مطابق سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے 17 رہنماؤں نے کانگریس میں واپسی کی ہے۔ واضح رہے کہ سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کچھ عرصہ قبل ہی کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر اپنی ایک الگ پارٹی بنائی تھی۔
بھارت جوڑو یاترا آنے والے انتخابات میں کانگریس کے لئے کتنی فائدہ مند ثابت ہوگی اس بات کا اندازہ ابھی مشکل ہے لیکن بہرحال کانگریس مخالفین بھی اب اس یاترا کی مقبولیت کے قائل ہونے لگے ہیں۔ 30 جنوری کو سری نگر میں بھارت جوڑو یاترا کا اختتام پرچم کشائی کے ساتھ ہونا طے پایا ہے۔ اس کے بعد کانگریس خود کو سیاسی طور پر متحرک رکھنے کے لئے کیا طریقہ اپناتی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ابھی وقت ہے لیکن بی جے پی نے اس کی تیاریاں پوری لگن و محنت سے شروع کردی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، عوامی مسائل ایک طرف اور ہندوستانی عوام کے مذہبی جذبات ایک طرف ہیں۔ عوام کی اس ” کمزوری” کا بہرحال خوب فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ آنے والے انتخابات میں بھی اٹھایا ہی جائے گا۔ بی جے پی کو شکست دینا کانگریس کے لئے ایک بڑا چیلنج تو ہے ہی لیکن بہرحال حمایتیوں اور مخالفین کی نظر میں بھارت جوڑو یاترا ایک تحریک بن گئی ہے جس کا عوام نے خیر مقدم کیا ہے۔عوام کے مسائل ان کے درمیان جاکر ہی بہتر طور پر سمجھے جاسکتے ہیں۔محض بڑے بڑے جملوں ، وعدوں اور کیمرا کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دینے سے عوام کے مسائل نا کبھی حل ہوئے ہیں ، نا ہوں گے۔

 

Previous Post

پروفیسر اخترالواسع: سلطان الہند، غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ

Next Post

بے قابو تعمیرات سےجوشی مٹھ تباہی کے دہانے پر:ماہرین

Next Post
بے قابو تعمیرات سےجوشی مٹھ تباہی کے دہانے پر:ماہرین

بے قابو تعمیرات سےجوشی مٹھ تباہی کے دہانے پر:ماہرین

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist