اسرائیل اور ترکی کے ما بین تجارتی تعلقات ہیں، جی ہاں آپ نے صحیح سنا؛ لیکن یاد رہے کہ تقریباً تمام ہی ملک کا کسی نہ کسی ملک سے تجارتی تعلق ہے، اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم ملک اور ملکی صدر کے ان تعلقات سے منفی یا مثبت نتیجہ نکالیں، حسن ظن یا بد ظن کے شکار ہوتے ہیں،
جہاں تک ہمارا خیال ہے کہ پچھلی تاریخوں میں بھی دشمنانِ اسلام سے تعلقات رہے ہیں، اور ان تعلقات سے اسلام کو باطنی طور پر بہت فائدے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ذاتی طور پر ترکی کے بارے میں مثبت تمنا رکھنے کے ساتھ ساتھ مثبت سوچتا ہوں، سوچنے اور پسند کرنے کی کئی وجوہات ہیں، تمام وجھوں کو چھوڑ کر صرف تین وجوہات ملاحظہ فرمائیں۔ پہلی۔۔۔۔۔ترکی کے تعلق سے ہماری ادنٰی سی تحقیق جو ہمیں طیب اردوغان صاحب اور ترکی کے بارے مثبت سوچنے پر مجبور کرتی ہے، دوسری۔۔۔غيروں سے تجارتی طور پر فائدے اٹھانا، جو اس تجارتی تعلق کو منافقت س
تعبیر کرتے ہیں، شاید انہیں خلافتِ عثمانیہ کی حقیقی تاریخ پڑھنے کی ضرورت ہے، بالخصوص انگریزوں کے ساتھ تجارتی معاملات کو، تیسری۔۔۔۔جس دور میں ہم جی رہے ہیں، اس دور میں دشمنوں سے ملنے جلنے اور اُن سے تجارتی معاملات کی وجہ سے منفی خیالات پیدا ہو جاتے ہیں، بی ٹیم کا چرچا ہونے لگتا ہے،
سنی سنائی باتوں پر خود بخود اعتبار سا ہونے لگتا ہے( ایسا ہونا فطری بات ہے لیکن تحقیق ضروری ہے) حالانکہ دشمنوں سے ملے بغیر،اُن کے خیالات کو جانے بغیر، اُن کی سوچ اور عزائم کو پرکھے بغیر، اُن سے ذاتی فائدے اٹھائے بغیر اُن کو شکشت دینا بہت مشکل امر ہے، اس کے لیے پچھلی تاریخ پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے، لفظِ "بی ٹیم”دشمنوں سے
تجارتی تعلقات ہیں” منافقت” جیسے لفظ سن کر بھی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اسلیے ترکی اور صدرِ ترکی کا احترام دل میں ہے، اور یہی تیسری وجہ بھی ہے، نوٹ۔۔ جن حکمرانوں کے دلوں میں خلوص ہوگا، وہ ہزاروں تعلقات بنا کر بدنام تو ہو سکتا ہے، اور ایسا ہوا بھی ہے، لیکن اسلام اور اُمتِ اسلامیہ کا کبھی نقصان نہیں کر سکتا، سوائے فائدے پہنچانے کے،
ارسلان نعمانی




