اتوار, مارچ 8, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home دنیا

پابندیوں سے جَکڑے کشمیر میں خواتین کے سامنے نئی پریشانی

Rubina by Rubina
ستمبر 25, 2019
in دنیا
0 0
0
پابندیوں سے جَکڑے کشمیر میں خواتین کے سامنے نئی پریشانی
0
SHARES
32
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

گزشتہ 14 ستمبر کو 22 سالہ رضوانہ دوڑی دوڑی اپنی دوست کے گھر پہنچی جو کہ اس کے گھر سے چند قدم دور تھا۔ سری نگر کے جنوب میں کوئی 60 کلو میٹر دور کاجی گنڈ کے پنجیت وان پورا میں رضوانہ کی دوست نے دروازہ کھولا تو اس نے ہڑبڑا کر پوچھا کہ ’’تمھارے پاس سینیٹری پیڈ ہے کیا؟‘‘ رضوانہ کی دوست نے اپنی اسٹیل کی الماری سے پرانے اخبار میں لپٹا ایک بنڈل نکالا اور رضوانہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ رضوانہ نے بتایا کہ ’’کشمیر میں پابندیوں کے سبب وہ سینیٹری پیڈ تک نہیں خرید پائی۔‘‘

قابل غور ہے کہ گزشتہ 5 اگست سے کشمیر وادی تقریباً پوری طرح بند ہے۔ اسی دن مرکز کی مودی حکومت نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کر کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ایک حصہ جموں و کشمیر کو اسمبلی والا مرکز کے ماتحت ریاست اور لداخ کو بغیر اسمبلی والا مرکز کے ماتحت ریاست قرار دے دیا تھا۔

کشمیر اس دقیانوسی سماج کا حصہ ہے جہاں ماہواری کی بات کرنا یا سینیٹری پیڈ کی کھلے عام خریداری کرنے کو برا تصور کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں باتیں صرف خواتین کے درمیان سرگوشیوں میں ہی ہوتی ہیں۔ اننت ناگ کی غزالہ مصطفی بتاتی ہے کہ کس طرح اس کی ماں نے اسے پرانے کپڑے استعمال کرنے پر مجبور کیا کیونکہ وہ سینیٹری پیڈ خریدنے کے لیے گھر سے باہر نہیں جا سکتی۔

پڑوسی ضلع کلگام میں پوسٹ گریجویٹ کر رہی طالبہ صائمہ فاروقی نے کئی بار پیڈ خریدنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہی۔ حالانکہ کئی بار اس کے علاقے میں فارمیسی کی دکان چپکے سے آدھا شٹر گرا کر کھلتی ہے، لیکن وہ وہاں نہیں جا سکی۔ صائمہ بتاتی ہے کہ ’’میں نے تین بار کوشش کی، اور ایک بار تو میں دکان تک پہنچ بھی گئی تھی، لیکن وہاں ہر وقت سی آر پی ایف جوان کھڑے رہتے ہیں، اس لیے میں پیڈ نہیں خرید پائی۔‘‘

صائمہ کی عمر دراز ماں نے اس بارے میں اپنی بیٹی کو اس نامہ نگار سے کھل کر بات کرنے کی آزادی دی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ لگاتار ہڑتال اور پابندیوں کے سبب وہ اور بھی بہت سی ضرورت کی چیزیں کسی اور دکان سے نہیں خرید پائے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’مین مارکیٹ میں صرف کچھ ایک دکانیں ہی شام کے وقت آدھی کھلتی ہیں، لیکن وہاں جانا ہمیشہ من میں اندیشہ پیدا کرتا ہے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ کب سیکورٹی فورس وہاں آ جائیں اور کوئی ہنگامہ یا تصادم شروع ہو جائے۔‘‘

وادی کے دیہی علاقوں میں خواتین سینیٹری نیپکن جیسی چیزیں کچھ خاص دکانوں سے ہی خریدتی ہیں۔ بہت سی خواتین نے بتایا کہ ایسی زیادہ تر دکانیں بند ہیں، اس سے خواتین کو عجیب قسم کی پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ پلوامہ سے محض 6 کلو میٹر دور ایک گاؤں میں رہنے والی روبیہ کا کہنا ہے کہ ’’میں ہمیشہ شہر جا کر ایک خاص دکان سے پیڈ لاتی تھی، لیکن گزشتہ ایک مہینے سے میں شہر جا ہی نہیں پائی ہوں۔‘‘ اسکارف سے چہرے ڈھکے کالج جا رہی لڑکیوں کے ایک گروپ نے بھی روبیہ کی بات کی حمایت کی۔

وادی کی ایک ڈاکٹر مسرت جان کہتی ہیں کہ جب بھی اس قسم کے حالات ہوتے ہیں تو خواتین ماہواری کے دنوں میں پرانے کپڑوں وغیرہ کا استعمال کرتی ہے، جس سے ان کی صحت کو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے خواتین کو کئی بیماریوں کا شکار ہونے کا اندیشہ ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جلد کی بیماری سے لے کر سروائیکل کینسر تک ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

اس بارے میں ایک سرکاری افسر نے پہچان چھپانے کی بات کہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وادی میں سینیٹری پیڈ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن یہ مانا کہ کچھ خواتین کو انھیں خریدنے میں دقتیں ضرور ہو رہی ہیں۔ غور طلب ہے کہ اسی سال جولائی میں جموں و کشمیر کی آئی اے ایس افسر سہرش اصغر نے ماہواری کے دوران صحت کا خیال رکھنے کی بحث شروع کی تھی۔ انھوں نے لڑکیوں کے کئی اسکولوں میں سینیٹری پیڈ ڈسپنسر لگوائے تھے۔ وہ بڈگام میں ڈپٹی کمشنر کے طور پر تعینات تھیں۔

Tags: #پابندیوں# کشمیر #واتین
Previous Post

مہاراشٹر: بی جے پی کو جھٹکا، ’شیوا اسمارک‘ منصوبہ میں بدعنوانی کا انکشاف

Next Post

عالمی برادری ایران کی جارحیت کو لگام ڈالے: سعودی عرب

Next Post
عالمی برادری ایران کی جارحیت کو لگام ڈالے: سعودی عرب

عالمی برادری ایران کی جارحیت کو لگام ڈالے: سعودی عرب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist