ایک دور تھا جب فلمی ستاروں کی شہرت اور عروج ان کے پرتعیش بنگلوں سے جان لیا جاتا تھا۔ فلم سٹارز کی شاندار کامیابی سے لے کر دل دہلا دینے والی ناکامی تک یہ بنگلے ہر دور کے خاموش گواہ سمجھے جاتے تھے۔فلم بینوں میں سے بیشتر جس طرح ’منت‘ کے نام سے ہی بالی ووڈ سٹار شاہ رخ خان کی رہائش گاہ کو جان جاتے ہیں، بالکل اسی طرح برسوں پہلے انڈین فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے سپر سٹار راجیش کھنہ کا بنگلہ ’آشیرواد‘ اپنے آپ میں مکمل پتے (ایڈریس) کی حیثیت رکھتا تھا۔بالی ووڈ سٹار راجندر کمار سے خریدا جانے والا یہ بنگلہ اپنے پہلے مالک کی طرح ہی راجیش کھنہ کے لیے خوش قسمتی کی علامت بن گیا۔ تاہم اس سے پہلے ایک دور میں یہ بھوت بنگلے کے نام سے مشہور تھا اور اسی لیے اداکار راجندر کمار کو سستے دام میں ملا۔یہی بنگلہ راجندر کمار اور پھر راجیش کھنہ کے لیے خوش قسمتی کے وہ در کھول گیا جس کی لوگ تمنا ہی کر سکتے ہیں۔
بھوت بنگلے کے نام سے مشہور ’بانو وِلا‘
ممبئی کے مغربی حصے میں واقع باندرہ ایک مشہور مضافاتی علاقہ ہے۔ آج یہاں کے باندرا بینڈ سٹینڈ اور قریبی کارٹر روڈ کو ایک تاریخی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔
سمندر کے سامنے واقع اس عالیشان علاقے میں آج بھی کئی بڑے فلمی ستارے اور بزنس مین رہتے ہیں۔اب تو بہت سی اونچی عمارتوں کی وجہ سے یہ علاقہ بہت گنجان آباد محسوس ہوتا ہے تاہم بغور جائزہ لیں تو ان بلند و بالا شاندار عمارتوں کے درمیان آج بھی کچھ خستہ حال عمارتیں اور پرانے بنگلے نظر آتے ہیں جو برسوں سے وہاں موجود ہیں اور اپنے اندر ایک مکمل تاریخ رکھتے ہیں۔کارٹر روڈ پر انیس و پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ان میں سے زیادہ تر بنگلوں میں ایسٹ انڈین اور پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے رہائش پزیر تھے۔اسی کارٹر روڈ پر سمندر کی طرف واقع بنگلہ ’آشیانہ‘ اس وقت ہندی سنیما کے بہترین موسیقار نوشاد کا ہوا کرتا تھا۔
’آشیانہ‘ کے قریب ایک اور دو منزلہ بنگلہ تھا جو انتہائی خستہ حال اور بری حالت میں تھا۔انٹرنیٹ پر کئی مضامین میں لکھا گیا ہے کہ اس سے قبل یہ بنگالی اداکار بھارت بھوشن کا تھا لیکن یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔اس بنگلے کی بیرونی دیوار پر انگریزی میں ’بانو ولا‘ لکھا ہوا تھا۔ آس پاس کے لوگ اس بنگلے کو بھوت بنگلہ کہتے تھے۔ کوئی اسے خریدنے کے لیے تیار نہیں تھا۔،تصویر کا کیپشن2016 کی تصویر جب آشیرواد کی فروخت کے بعد اسے گرا کر نئی عمارت بنائی گئی
اس عرصے کے آس پاس اداکار راجندر کمار، جو ہندی سنیما میں جگہ بنانے کے لیے 10سال تک جدوجہد کر رہے تھے، نے مدر انڈیا (1957) اور پھر دھول کا پھول (1959) میں کامیابی حاصل کی۔
ان کے گھر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی، جس کا نام انھوں نے ڈمپل رکھا۔جیسے جیسے ان کا خاندان بڑھ رہا تھا، راجندر سانتا کروز میں واقع اپنے چھوٹے سے کرائے کے فلیٹ سے بڑے مکان میں شفٹ ہونا چاہتے تھے۔تین فروری 1959 کی صبح انھیں ایک پراپرٹی بروکر کا فون آیا ’کارٹر روڈ پر ایک دو منزلہ مکان ہے بالکل وہی جو آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔ کیا آپ ابھی آسکتے ہیں؟‘




