ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

تعلیم کا زعفرانی سنگھار

Rubina by Rubina
اگست 24, 2023
in بھارت, سیاست
678 0
0
تعلیم کا زعفرانی سنگھار
657
SHARES
886
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایک اسکول ٹیچر نے اپنے بچوں کو دوران تعلیم بس اتنا کہا کہ پڑھے لکھے رہنمائوں کو ووٹ دینا چاہیے، بیچارے کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ایک اسکول کی بچی پورے اسکول میں ٹاپ کرتی ہے اور جب تقسیم اسناد کے وقت اسکول کے جلسے میں پہنچتی ہے تو یہ دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے کہ اس کا نام اسکول مینجمنٹ نے پکارا ہی نہیں، سیکنڈ اور تھرڈ ٹاپر کا نام لیتے ہی جلسے کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ اسکول اسمبلی کے دوران بچے ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ کی دعا کا ورد کرتے ہیں اور پورے اسکول مینجمنٹ کو نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے کہ وہ غدار وطنی کا سبق بچوں کو دے رہے ہیں۔ یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کا ترانہ گزشتہ کئی برسوں سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اردو زبان میں لکھے ہوئے مارکیٹ پروڈکٹس پر ہنگامہ مچتے ہوئے بھارت کے عوام دیکھ چکے ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے ایسی اور اس طرح کی خبریں سرعام ٹی آر پی بٹورتی نظر آتی ہیں۔
ملک کے بڑی اور مستحکم دانش گاہوں کے تعلیم نظام کو پوری طرح سے قابو میں کر لیا گیا ہے۔ اے ایم یو کی حالت تو مزید خراب ہے کہ جہاں اے ایم یو کورٹ کے پانچ ممبران میں سے ایک بھی اے ایم یو کا پروردہ یا اے ایم یو کے مشن کو جاننے والا نہیں ہے۔ جے این یو جیسے ادارے پر سیاسی شکنجہ کی شروعات تو بہت پہلے سے ہو چکی ہے۔ ڈی یو اور جامعہ ملیہ بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ سیمی گورنمنٹ کے زیرنگیں چلنے والے اداروں کے چیئرمین اور ڈائریکٹر سنگھ اور بی جے پی کے نظریاتی جھروکوں سے نکل کر عہدہ بریں ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ پہلے سے چل رہی چیزوں کو ختم کرنا اور نئی طرح کی ان چیزوں کو پروان چڑھانا جو سرکاری موقف کی جم کر حمایت کریں۔ ایسے میں تعلیم کا معیار، اس کی حقیقت اور اس کی حکمت زخم خوردہ پرندہ بن کر رہ گئی ہے جو زندہ تو ہے مگر طاقت پرواز سے خالی ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد اچھی اور معیاری تعلیم پر منحصر ہوتی ہے۔ ایسی تعلیم جو ریسرچ کو فروغ دے، جس میں گہرائی اور گیرائی ہو، وہ سائنس ہو، سوشل سائنس ہو یا لٹریچر ہو۔ جب ریسرچ کا کام رک جائے گا تو پھر دیش کا وکاس مشکل ہی نہیں، ناممکن ہوجائے گا، مگر تعلیمی نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے نئی تعلیمی پالیسی کا نیا منصوبہ تیار کیا گیا تاکہ دانشوران اس الجھن میں مبتلا رہیں کہ بغیر کسی وسائل اور ذرائع کے اسے نافذ کیسے کیا جائے اور اِدھر نصابی کتابوں سے ایسے اطلاعاتی چیپٹرس کو ہٹا دیا جائے جس کی بنیاد پر ہندوستان کا سیکولرازم کھڑا ہے۔ نصاب کی تبدیلی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سرکار کو نہ ہی پرانی تعلیمی پالیسی سے مطلب ہے اور نہ ہی نئی تعلیمی پالیسی سے کوئی رغبت ہے، یہ صرف ایک ایجنڈا ہے جس کے حصول کے لیے تعلیم گاہوں پر شکنجہ کسا جانا ضروری ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار کو اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، تو ظاہر ہے کہ اس کا جواب اس پر منحصر ہے کہ پرانا تعلیمی نظام ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولرازم کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، لیکن آج کی سیاست کو سیکولرازم لفظ سے سخت پریشانی ہے اور اس پریشانی کا ادراک یہی ہے کہ اس لفظ کو گڑھنے والی کتاب کو ہی ختم کردیا جائے۔ عہد مغلیہ کو نصاب سے ہٹاتے وقت یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ آخر مغل کے بغیر700 سال کی تاریخ میں ہندوستان کر کیا رہا تھا؟ پرتھوی راج چوہان، شیوا جی، مہارانا پرتاپ کس سے لڑائی کر رہے تھے اور کس سے ہندو اسمتا کی رکچھا کر رہے تھے۔ گویا اکبر، بابر، اورنگ زیب سے بھارت کو پاک کر نے کے لیے شیواجی، پرتھوی راج چوہان اور مہارانا پرتاپ کی تاریخی اہمیت کو بھی دھومل کیا گیا۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ بچوں پر پڑھائی کا زور نہ بڑھے، اس لیے نصاب کو ہلکا کرنے کے لیے ایسا کیا گیاہے۔
نئی تعلیمی پالیسی میں انڈر گریجویٹ کوجس طرح کا نصاب دیا گیا، اس سے طلباپر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ یعنی پہلے وہ دو پیپر پڑھا کرتے تھے، اب6پیپر پڑھنے ہوتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس کو پڑھانے کے لیے استاد ہی مقرر نہیں ہے۔اس پالیسی کے تحت سرکار بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بجائے صرف کاغذی خانہ پری کو بڑھاوا دینے کا کام کرے گی، جو گزشتہ کئی برسوں سے بہار کی یونیورسٹیوں میں ویسے بھی جاری و ساری ہے۔
تاریخ کے نصاب میں وید،رامائن، مہابھارت اور گیتا کے شلوکوں کا اندراج کیا گیا، تاریخ شواہد پر مبنی ہے اور خود اس کانصاب اس سے مبرا ہے، کیا یہ حیرت انگیز نہیں ہے۔اردو کے نصاب سے اسلامی تاریخ کو ہٹا دیا گیا، جس کی تاریخ شواہد کے ساتھ موجود ہے، کیا یہ حیرانی کی بات نہیں ہے۔اسلامی تاریخ کو ہٹانے کی وجہ سے کالجوں میں پہنچنے والے طلبا اسلامی تاریخ سے تو بیگانہ ہو ہی جائیں گے، ساتھ ہی ساتھ اردو شعر و ادب میں موجود اسلامی تلمیحات و استعارے اور کنائے سے بالکل ناآشنا رہیں گے، نتیجتاً نہ وہ غالب کو سمجھ پائیں گے، نہ ہی اقبال اور فیض کو۔ ایسے میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کا تعلیمی نصاب ایسا ہو کر رہ جائے گا کہ لوگ سند یافتہ تو ہوں گے مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ وہ گریجویٹ تو ہوجائیں گے مگر ایجوکیٹیڈ نہیں۔ میڈیا، انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر شعبہ ہائے عوامی خدمات کے اب تعلیمی میدان پر سرکار کا شکنجہ سخت ہوچکا ہے تاکہ آنے والی نسلیں وہی پڑھ سکیں، وہی سیکھ سکیں جو سنگھ کے نظریات ہیں۔
ویسے سرکار کا تمام ہدف سرکاری اداروں کی جانب ہی ہے، پرائیویٹ تعلیمی ادارے چونکہ بڑی ہستیوں کے ہوتے ہیں اور وہاں بڑی ہستیوں کے آل اولاد ہی پہنچ پاتے ہیں، اس لیے اسے چھیڑنے کی ہمت ابھی سرکار میں نہیں ہے۔ تعلیم کا کا روباری استعمال تو بہت پہلے سے ہو رہا ہے، اب اس کازعفرانی سنگھار کیا جا رہا ہے۔

 

Previous Post

مسیحائے قوم گلزار اعظمی کے انتقال پر جمعیة علماءمہراج گنج کے زیر اہتمام دعائیہ نشست کا انعقاد

Next Post

چاند پر بسائی ہندوستان نے بستی

Next Post
چاند پر بسائی ہندوستان نے بستی

چاند پر بسائی ہندوستان نے بستی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist