گجرات میں باغیوں سے پریشان بی جےپی نے اتوار کو اپنے ۷؍ لیڈروں کو ۶؍ مہینوں کیلئے پارٹی سے معطل کردیا ۔ ان میں سے ۶؍ نے پارٹی کا ٹکٹ نہ ملنے پر بغاوت کرتے ہوئےآزاد امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کردیا ہے جبکہ ایک کو کانگریس نے ٹکٹ دیا ہے۔ ساتوں لیڈر جن انتخابی حلقوں سے امیدوار ہیں وہاں یکم دسمبر کو پہلے مرحلے میں پولنگ ہونی ہے۔
مزید لیڈروں کی معطلی کا امکان
گجرات میں بڑی تعداد میں باغی امیدواروں سے پریشان بی جےپی آئندہ ہفتے مزید کئی لیڈروں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ اتوار کو گجرات بی جےپی کے میڈیا کوآرڈنیٹریوگیش دوے نے جن لیڈروں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ان میں قبائلی لیڈر ہرشد وساوا اور اروند لاڈانی شامل ہیں۔ یہ دونوں بی جےپی کے سابق ایم ایل اے ہیں جنہوں نے ٹکٹ نہ ملنے پر بالترتیب نند گاؤں اور کیشوڈ سے بطور آزادا میدوار پرچہ داخل کردیاہے۔ ان کے علاوہ چھترا سنگھ گنجاریہ جو سریندر نگر ضلع پنچایت کے منتخب رکن ہیں کو بھی پارٹی سے معطل کردیاگیاہے۔ گنجاریہ کو دھرانگدھرا سے کانگریس نے اپنا امیدوار بنایاہے۔ ان کے علاوہ کیتن پٹیل جو پاردی سیٹ سے مقدرآزما رہے ہیں، بھارت چاؤڑا جو راج کوٹ دیہی سیٹ سے امیدوار ہیں اور اُدئے شاہ جنہوں گیرسومناتھ میں ویراول اسمبلی حلقے سے پرچہ داخل کیا ہے کو بھی معطل کردیاگیاہے۔ اتوار کو معطل کئے گئے بی جےپی لیڈروں میں کرن بریا بھی شامل ہیں امریلی ضلع کے راجولا میں بی جے پی کے امیدوار سے لوہا لے رہے ہیں۔
؍۴۲؍ اراکین اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے گئے
زعفرانی پارٹی لگاتار ۷؍ ویں مرتبہ گجرات میں اسمبلی الیکشن جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ حکومت مخالف لہر سے بچنے کیلئے اس نے ۵؍ وزیروں سمیت اپنے ۴۲؍ اراکین اسمبلی کے ٹکٹ کاٹ دیئے ہیں جس کی وجہ سے پارٹی کارکنوں کے ایک بڑے طبقے میں ناراضگی ہے ۔ سالہاسال سے پارٹی کیلئے کام کرنے والے لیڈروں کو نظر انداز کرکے کانگریس چھوڑ کر آنے والے لیڈروں کو امیدوار بنانے پر بھی پارٹی کارکنوں میں ناراضگی ہے۔ وہ پارٹی کے امیدوار وں کیلئے کام کرنے میں ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں، جیسی پارٹی قیادت کو توقع ہے۔
کانگریس سے زیادہ بی جےپی کو بغاوت کا سامنا
جن لیڈروں کے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں ان میں وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل کی کابینہ کے ۵؍ ویزروں کے علاوہ اسمبلی اسپیکرنیمابین اچاریہ بھی شامل ہیں ۔ وجئے روپانی اور نتن پٹیل جیسے کئی ایسے سینئر لیڈروں نے جنہیں ٹکٹ سے محروم کئے جانے کا پہلے ہی سے امکان تھا، بنے ’’رضاکارانہ طور پر‘‘ الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ گجرات میں سیاسی تجزیہ نگار دلیپ پٹیل نے ریاست کی انتخابی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ اس سال پہلی بار گجرات میں بی جےپی کو کانگریس سے زیادہ باغیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
باغیوں کے خلاف کارروائی کا دفاع
بی جےپی نے ’’جیتنے کی صلاحیت‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ٹکٹ تقسیم کئے ہیں۔ باغیوں کے خلاف کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے گجرات بی جےپی کے صدر سی آر پالی کا کہنا ہے کہ پارٹی کے امیدوار کے خلاف الیکشن لڑنے والے لیڈر اگر پرچہ واپس لینے کے آخری دن تک امیدواری سے دستبردار نہیں ہوتے توانہیں معطل کرنا معمول کی کارروائی ہے۔ بہرحال ابھی مزید کئی معطلیوں کا امکان ہے کیوں کہ جن لوگوں کے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں ان میں واگوڈیا سے ۶؍ بار جیتنے والے ایم ایل اے مدھو سریواستو بھی شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے ان کی ’’بلی چڑھا دی‘‘ ہے۔ ان کے علاوہ ہرشد واسوا جو ناندوڑ سے ۲؍ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں، ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طورپر بی جےپی کے امیدوار کو ہی ٹکر دے رہے ہیں۔




