ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

مہلک محبت اور سماج پر اس کے مضر اثرات

Rubina by Rubina
نومبر 18, 2022
in بھارت, سیاست
67 0
0
مہلک محبت اور سماج پر اس کے مضر اثرات
98
SHARES
129
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ہندوستانی معاشرہ عام طور سے خواتین کے تئیں بڑا ظالم اور بے رحم ثابت ہوا ہے۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے بلکہ صدیوں سے یہی سلسلہ جاری ہے۔ خواتین کو حقوق دلانے اور انہیں با وقار زندگی عطا کرنے کی کوششوں میں گرچہ ہر روز اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن عمومی طور پر ان کے مسائل میں کمی نہیں ہو رہی ہے۔ خواتین کی حالت زار کی نمائندگی کرنے کے لیے ایک جملہ جو زبان زدِ عوام بھی ہوچکا ہے، اس قابل رحم حالت کا صحیح عکس پیش کرتا ہے۔ وہ جملہ ایک خاتون کے منہ سے ہی ادا کروایا گیا ہے اور بالی ووڈ کی فلموں نے اس کو گھر گھر پہنچانے میں بڑا رول ادا کیا ہے۔ وہ جملہ جس میں کہا گیا ہے کہ ’عورتوں کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے‘ دراصل خواتین کے تئیں ہمارے معاشرہ کے قابل افسوس نقطۂ نظر کی مناسب عکاسی کرتا ہے۔ اس مظلوم صنف کے خلاف ظلم کا آغاز رحم مادر میں ہی ہوجاتا ہے جس کا سلسلہ زندگی کے آخری مرحلہ تک چلتا رہتا ہے۔ کبھی اس کو شکمِ مادر میں ہی ختم کر دیا جاتا ہے تو کبھی اس کی پیدائش کے بعد سخت ناگواری کا اظہار کیا جاتا ہے اور ہرممکن کوشش کی جاتی ہے کہ اسے احساس دلایا جائے کہ وہ اس گھر میں مطلوب نہیں ہے اور محض ایک بوجھ کے طور پر اس کو برداشت کیا جا رہا ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ننھی سی بچی کی پیدائش کی سزا اس کی ماں کو بھی جھیلنی پڑتی ہے۔ گویا گھر میں بیٹی کی پیدائش کوئی لعنت ہو جس کے لیے اس ممتا کو بھی معتوب کیا جائے جو نو مہینے تک اپنا سُکھ دُکھ بھول کر اور اپنے خونِ جگر سے پال کر ایک نئی زندگی کو وجود بخشنے کا ذریعہ بنی ہو۔ یہ ہندوستانی سماج کی بد قسمتی ہے کہ اس دور میں بھی جس کو علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور عروج کا دور کہا جاتا ہے، خواتین کو ایسے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ کبھی ذات پات کے نام پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے بلکہ ان کی عصمت دری کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے تو کبھی انہیں تعلیم و ترقی کے مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے۔ سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب وہ شادی کے جوڑے میں ملبوس ہوکر اپنے سسرال پہنچتی ہے تاکہ اپنے شریک حیات کے ساتھ ایک ایسی نئی زندگی کا آغاز کرے جہاں ان کی تمناؤں اور آرزوؤں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے تو وہاں بھی کئی خواتین کو زد و کوب کیا جاتا ہے اور انہیں اس قدر مسائل کے بوجھ تلے دبا جاتا ہے کہ وہ یا تو خود اپنی زندگی سے عاجز آکر جینا نہیں چاہتی ہیں یا پھر کئی بار سسرال کے لوگ ہی اپنی بے رحمی اور ظلم کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے ان خواتین کی جان لے لیتے ہیں جن کے ساتھ مل کر زندگی کے سفر پر آگے کی منزل طے کرنے کا عزم لے کر وہ آئی ہوتی ہیں۔ عموماً یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جہیز کی لعنت کا شکار ایسی عورتیں ہوجاتی ہیں اور انہیں سسرال میں ذہنی و جسمانی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اذیت ناکی کے اس معاملہ میں جب شوہر اور رفیق حیات بھی شامل ہوجائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خاتون پر کیا گزرتی ہوگی۔ وہ جس کے سہارے اپنا مائیکہ چھوڑ کر آ گئی تھی اور جس پر اپنی محبت و الفت کے پھول برسائے تھے وہی شخص جب درپئے آزار ہوجائے تو نفسیات کی دنیا میں ایک زلزلہ سا پیدا ہوجاتا ہوگا۔ وہ جس کرب اور ذہنی کوفت سے گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس نے کبھی اپنوں کے ہاتھوں المناک مسائل کا سامنا کیا ہو۔ اب تک یہ معاملے شادی بیاہ کے تعلقات تک محدود تھے جہاں کم از کم خواتین کو اپنے میکے والوں کا سہارا رہتا ہے اور جب کبھی ازدواجی زندگی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو دو گھرانوں کے باشعور بزرگوں کی مداخلت سے معاملہ کو حل کر لیا جاتا ہے۔ لیکن جب کبھی آفتاب پوناوالا اور شردھا والکر جیسے تعلقات کی نوعیت سامنے آتی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایسے تعلقات میں خواتین کی بے بسی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہم نے مغربی تہذیب کے زیرِ اثر جو معاشرہ تیار کیا ہے، اس میں دھیرے دھیرے سارے بندھن ٹوٹ رہے ہیں۔ رشتوں میں وہ گرمی اور اپنائیت باقی نہیں رہ گئی ہے جو کبھی ہماری معاشرتی زندگی کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھی۔ مغربی جدیدیت نے ہمیں اس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ انسانی قدروں سے بھی ہم عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ جس محبت کے لیے لوگ کبھی اپنی جانیں قربان کر دیا کرتے تھے لیکن اپنے محبوب پر ایک کھرونچ تک نہیں آنے دیا کرتے تھے اب اسی محبت کے نام پر محبوب کو تڑپا تڑپا کر اور پوری وحشت ناکی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ایسی وحشت ناکیوں کو روکنے کے لیے قانون اپنا کام کرے گا اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی لیکن سماج کے طور پر ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ ان میں اپنے والدین کے مشوروں کو قبول کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو سکے۔ ’یہ میری زندگی ہے اور میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں‘ کا فلسفہ نہایت مہلک اور جان لیوا ہے۔ شردھا والکر کے والد نے بھی اپنی بچی کو ایسے رشتہ میں داخل ہونے سے منع کیا تھا لیکن اس نے نہیں مانا اور نتیجہ اتنا بھیانک ہوا۔ کئی بار والدین کی بھی غلطی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں سے مشورہ نہیں کرتے اور ان پر بس اپنی مرضی تھوپنے کی ضد کرتے ہیں جس کا نہایت افسوسناک نتیجہ سامنے آتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رشتوں کی اہمیت کو سمجھایا جائے، خاندانی نظام کو ایسا مضبوط کیا جائے جہاں افراد کی زندگیاں خوشگوار بن سکیں۔ گھر کا ماحول ایسا ہو جہاں سماج کے مسائل پر گفتگو ہو اور ان کا انسانی حل پیش کرنے کا راستہ ڈھونڈا جائے۔ تعلیم گاہوں میں اساتذہ و معلّمات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسا دماغ تیار کریں جس میں دل کے پاکیزہ جذبات کو سمجھنے اور اس کے مطابق ایک ہمدرد معاشرہ قائم کرنے کا عزم پیدا ہو۔ تعلیم کا مقصد صرف اپنی ذات کو بہتر بنانا اور مادی ترقی کی سیڑھیاں طے کرنا نہ ہو بلکہ انسانی زندگی میں محبت و رواداری کے اصولوں کو بروئے کار لانے کا بھی نسخہ عطا کیا جاتا ہو۔ آفتاب پوناوالا نے شردھا والکر کے ساتھ جس وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اس کا شکار کئی مقامات پر کئی بے قصور بچیاں ہوتی ہیں۔ یہ ذمہ داری معاشرہ کے تمام افراد اور اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ گھر، سماج، اسکول و کالج اور آفس و کارخانہ کے ساتھ ساتھ پولیس و عدلیہ ہر نظام کو اتنا چست درست بنائیں کہ کوئی ہنستی کھیلتی زندگی اس طرح بے رحمی کا شکار نہ ہو جائے۔ آج کی نسل کو بھی سمجھنا ہوگا کہ وہ محبت کے کھوکھلے دعوؤں کے نام پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ تعلقات کو منقطع کرنے کی غلطی نہ کرے۔ زندگی فلم اور ٹیلی سیریل کی طرح نہیں ہوتی ہے جس کا پلاٹ ایک خاص نہج پر چلتا ہے اور ڈائریکٹر کے مطابق ایک خاص نتیجہ پر پہنچ کر ختم ہوجاتا ہے۔ زندگی کو ہمیشہ سنجیدگی سے لینا چاہیے اور تمام رشتوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ شردھا والکر کا قتل ہمارے معاشرہ کے ضمیر پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ اگر ہم کسی کے ساتھ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کا ہر طرح سے خیال رکھنا اور اس کے نرم و گرم رویہ کو برداشت کرتے ہوئے آپسی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کی فکر کرنا ہی اصل فکری پختگی ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسلیں اس بات کا خیال رکھیں گی کہ وہ ایک صحتمند اور ہمدردی پر مبنی معاشرہ کی تشکیل میں اپنا کردار نبھائیں گی اور آفتاب پوناوالا جیسے عناصر کو پروان چڑھانے والی علامتوں سے اپنا کوئی واسطہ نہیں رکھیں گی۔ یہی ملک اور سماج کے لیے مفید ہوگا۔

Previous Post

انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر2022میں دواساز کمپنی نیو رائل پروڈکٹس کی شرکت

Next Post

ہندوستان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری

Next Post
ہندوستان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری

ہندوستان کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist