پیر, جون 8, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کاطلبہ کومکتوب، فہم و فراست کے مظاہرہ کی اپیل ،مشتعل ہونے کاالزام بھی لگایا

Agha Khursheed Khan by Agha Khursheed Khan
جنوری 1, 2020
in بھارت
0 0
0
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کاطلبہ کومکتوب، فہم و فراست کے مظاہرہ کی اپیل ،مشتعل ہونے کاالزام بھی لگایا
0
SHARES
43
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

علی گڑھ(آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے یونیورسٹی کے طلبہ کے نام جاری ایک مکتوب میں کہا ہے کہ وہ کیمپس میں تعطیلات کے بعد ان کی واپسی کے منتظر ہیں اور طلبہ کے مفادکے امور پر ان سے گفت و شنید کے لیے تیار ہیں۔ وائس چانسلر نے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ طویل مدتی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کو پرامن طریقہ سے چلانے میں ان کی مدد کریں اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے

ہوئے ایسی باتوں پر یقین نہ کریں جو چند ایسے لوگ پھیلارہے ہیں جنھیں گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات کے حقائق کا صحیح علم نہیں ہے۔ واضح ہوکہ وائس چانسلرپرسنگین الزام ہے کہ انھوں نے پولیس کوکیمپس میں داخل ہونے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں طلبہ تشددکے شکارہوئے۔اس معاملے پران کی طرف سے کافی وضاحت نہیں آسکی ہے،طلبہ یونین نے ان کے استعفے کامطالبہ کیاہے۔ویسے طارق منصورمشکوک رہے ہیں،حکومت اورسنگھ کی پراسرارمیٹنگوں

میں بھی شرکت کی خبریں آئی ہیں۔جن کی وجہ سے ان پرسوال اٹھنافطری ہے۔ہوسکتاہے کہ کرسی خطرے میں دیکھ کریہ لالی پاپ دیاجارہاہو۔وائس چانسلر نے یہ نہیں بتایاکہ جن نامعلوم ایک ہزارطلبہ پرایف آئی آردرج کی گئی ہے،عام طلبہ کی گھرسے واپسی پران پراگرکارروائی ہوئی تووائس چانسلرکیاکریں گے؟چوں کہ کیس نامعلوم طلبہ کے نام ہے،کیاانھوں نے وزیراعلیٰ یااپنے جن سنگھی دوستوں کے یہاں جاتے رہے ہیں،ان سے بات کی ہے؟ وائس چانسلر نے کہا ”15دسمبر کی شب میں کیا گیا فیصلہ نیک نیتی پر مبنی تھا۔انھوں نے طلبہ پرمشتعل ہونے کاالزام لگاتے ہوئے کہاکہ بنیادی طور سے اس کا مقصد ناراض طلبہ کو منتشر

کرنا تھا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دو طلبہ کی موت کی جھوٹی خبر پر مشتعل ہوگئے تھے۔ جب ہم نے دیکھا کہ حالات قابو سے باہر ہوگئے ہیں تو وہ فیصلہ کرنا لازمی تھا“۔اپنے مکتوب میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی عظیم تاریخی وراثت کی یاد دلاتے ہوئے طلبہ سے کہاکہ انھیں کسی بھی ایسے قانون کے خلاف جمہوری انداز میں پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے جسے وہ قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔ پروفیسر منصور نے کہا ”یونیورسٹی انتظامیہ اور میں خودطلبہ کے حقوق پر قدغن لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ ایک مضبوط جمہوریت اپنے شہریوں کی متحرک حصہ داری پر منحصر ہوتی ہے ، خاص طور سے ایسے نوجوانوں پر جو ملک کا مستقبل ہیں“۔ پروفیسر طارق منصور نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے ” جب آپ چھٹیوں سے واپس لوٹیں گے تو میں بطور وائس چانسلر کیمپس میں آپ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوں اور محبت و احترام کے ساتھ تعلیمی سال کو پرسکون انداز میں مکمل کرنے

میں آپکا تعاون چاہتا ہوں“۔ انھوں نے کہا ”انارکی کا ماحول پیدا کرنے سے بطور پرامن شہری ہمارا اعتبار مجروح ہوگا اور ہماری یونیورسٹی کے بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی باتوں کو ان سے تقویت ملے گی“۔ وائس چانسلر نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی عظیم تاریخی وراثتوں کی حامل ہے۔ سرسید احمد خاں کی ہمت اور ان کی دور اندیشی ہو، 1947میں اس ملک کو آزاد کرانے کی تحریک میں اے ایم یو کی حصہ داری ہو یا پھر اس ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی ملک کی تعمیر و ترقی میں عظیم خدمات ہوں ، ان سب سے اے ایم یو برادری کو تحریک ملتی ہے۔ پروفیسر منصور نے کہا ”بطور وائس چانسلر میں نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں جو بھی فیصلے کئے وہ طلبہ اور ادارے کے مفاد میں تھے ، تاہم اگر آپ کو کچھ خدشات ہوں تو ان کے بارے میں کھل کر بات کریں تاکہ ان کا ازالہ کیا جاسکے“۔گزشتہ 15دسمبر کو پیش آئے واقعات پر رنج و افسوس کااظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ پولیس کارروائی میں لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں اور وہ ذہنی اذیت سے دوچار ہوئے

ہیں اس پر انھیں سخت تکلیف پہنچی ہے۔ ایسے طلبہ اور ان کے اہل خانہ سے وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ پروفیسر منصور نے کہاکہ اس سلسلہ میں کئی طلبہ نے اے ایم یو انتظامیہ کے کردار پر سوال اٹھائے حالانکہ انتظامیہ کی نیت صاف تھی ۔ انھوں نے کہا ”کئی دفعہ ناگہانی حالات ہمارے فیصلوں کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں اور بعض دفعہ تنقید درست ہوتی ہے۔ ہم انکساری کے ساتھ ایسے فیصلوں سے سبق لیتے ہیں اور مستقبل میں بہتر ردّ عمل کا عزم کرتے ہیں“۔ وائس چانسلر نے

کہاکہ ہاسٹل خالی کرانے کا فیصلہ ملک میں اُس وقت کے حالات کے پیش نظر کافی غور و خوض کے بعد کیا گیا تھا اور یہ کوشش کی گئی تھی کہ طلبہ کو کم از کم زحمت ہو۔حالانکہ کچھ طلبہ کو زحمت ہوئی جس پر انھیں سخت افسو س ہے۔ پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ یونیورسٹی انتظامیہ، بے قصور طلبہ کے ساتھ ہوئی ناانصافی پر انھیں انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر ے گی اورطلبہ کوایسے لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے جنھیں صحیح حالات و واقعات کا علم نہیں ہے۔ وائس چانسلر نے طلبہ کی فہم پر اعتمادکااظہار کرتے ہوئے انھیں آگاہ کیا کہ ان کے درست اندیشوں کو مفاد پرست

عناصر یرغمال نہ بنانے پائیں اور ایسے عناصر کی شناخت کرنے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی مدد کریں جو طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ پروفیسر طارق منصور نے مزید کہا” ہمارے بہت سے طلبہ عام پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور اس عظیم یونیورسٹی میں ملنے والی تعلیم ان کے مستقبل کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ہمیں اس بحران کے وقت میں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمارے موجودہ طلبہ اور مستقبل کی نسلوں کی خوابوں اور امنگوں کو پورا کرتی رہے“۔ وائس چانسلر نے طلبہ کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنی انا، وقتی ردّ عمل اور قلیل مدتی فائدے کے خیال کو طویل مدتی مقاصد و اہداف پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے جن کے لیے یونیورسٹی قائم ہے۔وائس چانسلر نے طلبہ کے مفاد کے امور پر ان سے گفت و شنید کے اپنے عزم کو بھی دوہرایا۔

Tags: ANUINDIAINDIAN MUSLIM
Previous Post

جموں کشمیر کے 5 لیڈران رہا ، 370کی منسوخی سے اب تک تھے قید میں

Next Post

سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران ائمہ مساجد اور مسلم دانشوران کے ایک وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا

Next Post
سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران ائمہ مساجد اور مسلم دانشوران کے ایک وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا

سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران ائمہ مساجد اور مسلم دانشوران کے ایک وفد نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist