ہفتہ, مارچ 7, 2026
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
انگریزی
ہندی
مسلم ٹوڈے
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما
No Result
View All Result
مسلم ٹوڈے
No Result
View All Result
Home بھارت

گاندھی جی بھی ہندو تھے لیکن ان کے ’ہے رام‘ سے دوسرے مذاہب میں دہشت نہیں پھیلی

Rubina by Rubina
اکتوبر 2, 2019
in بھارت
0 0
0
گاندھی جی بھی ہندو تھے لیکن ان کے ’ہے رام‘ سے دوسرے مذاہب میں دہشت نہیں پھیلی
0
SHARES
54
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پوری دنیا گاندھی کی راہ کے ذریعے راستہ تلاش کر رہی ہے لیکن اپنے ہی ملک میں جمہوریت پر جس طرح خطرہ بڑھ رہا ہے اس میں گاندھی جی کے پیغامات پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی سچائی تھی جس سے ہم آہنگ ہونے کے بعد گاندھی جی امر ہو گئے؟ اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں لیکن میں کچھ پہلؤں کو رکھوں گی جو گاندھی کو آج بھی اتنا ہی موزوں بناتے ہیں جتنا کہ وہ اپنی زندگی میں تھے۔

گوکھلے جنہیں گاندھی اپنا سیاسی استاد کہتے تھے، انہوں نے گاندھی جے کے حوالہ سے لکھا تھا، ’’ان کے پاس ایسی زبردست روحانی قوت ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے عام لوگوں کو انقلابیوں اور مجاہدین میں بدل دیں۔‘‘ اس کے لئے گاندھی جی نے ستیہ گِرہ (انشن) کا ہتھیار ایجاد کیا تھا۔ اسی نے گاندھی جی کو ہندوستان ہی میں نہیں، بلکہ دنیا کی تاریخ کو فیصلہ کن طریقہ سے متاثر کرنے کی ہمت دی۔

انشن کے قلب و روح مزاحمت ہیں۔ کسی بھی طرح کے غلط رویہ کے خلاف مزاحمت، پھر چاہے وت نسل پرستی ہو یا پھر استعمار اور جمہوریت کا خسارہ ہو یا پھر فرقہ پرستی، ذاتیاتی استحصال، پدر پرستی، عدم مساوات اور معاشی قلت۔ عدم تشدد کی حدود میں بندھے انشن میں جد و جہد کے مختلف طریقے بھی شامل ہیں۔ ستیہ گِرہ میں عدم تعاون (نان کوآپریٹیو) سے لے کر، عام نافرمانی (سیول ڈس آبیڈینس)، چرخے پر سوت کاتنے سے لے کر بیرونی لباس کا بائیکاٹ، عدالتوں کے بائیکاٹ سے لے کر ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنا، ممنوعہ ادب کے فروغ سے لے کر نمک تیار کرنے پر پابندی کی خلاف ورزی، ہڑتال سے لے کر تادم مرگ انشن تک سب کچھ تھا۔ اس میں ریلی نکالنا، جلسہ عام کرنا، دھرنے دینا، کینڈل مارچ نکالنا اور مخالفین کی گلپوشی کرنا بھی شامل تھا۔

گاندھی جی کا خیال تھا کہ اگر عوام سیاسی طور پر فعال ہو جائیں تو وہ کوئی بھی ہدف عبور کر سکتے ہیں۔ ان کے لئے عدم تشدد ایک اخلاقی اصول ہونے کے ناطہ ہی اہم نہیں تھا بلکہ وہ اس سے ایک جم غفیر کو قومی مقصد کے لئے اپنے پیچھے لانا ممکن ہو پایا۔ گاندھی جی کا نظریہ تھا کہ کوئی بھی تحریک تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب اس میں عوام بڑے پیمانے پر شراکت داری کرے۔ اور عوامی شراکت داری تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب ہم تشدد سے پاک ہوں۔ گاندھی جی کہتے تھے کہ ایک صلاحیت مند سپہ سالار اپنے وقت اور اپنے پسند کے میدان پر جنگ کرتا ہے اور عدم تشدد یہ یقینی بناتا ہے کہ وہ میدان اخلاقیات کا ہونا چاہیے۔

گاندھی جی نے ایک کے بعد ایک مہمات سے یہ ظاہر کیا کہ کس طرح عدم تشدد پر مبنی انشن نے حکومت کو پس و پیش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر وہ مہم کو نہیں دباتی تو حکومت کو کمزور سمجھا جاتا، اگر وہ ظلم و جبر سے اس پر قابو پاتی تو اس کو ظالم کہا جاتا۔ دونوں ہی صورت میں حکومت کی ساکھ متاثر ہونا لازمی تھی۔

گاندھی جی کے طریقے شمالی امریکہ کے جمہوری ماحول سے لے کر اسٹالن والی قدامت پرستی میں بھی مؤثر ثابت ہوئے۔ یورپ میں امن کی مہم کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سبز انقلاب نے گاندھی کے طریقوں پر عمل کیا ہے۔ 20 ویں صدی کے اواخر میں دنیا بھر میں آمروں کے خلاف اور جمہوریت کی حمایت میں تحریکیں منظر پر عام آئیں۔ جنوبی کوریا، فلپائن، سوویت روس سے لے کر مشرقی یورپ تک، ہر جگہ گولیاں اور بم نہیں بلکہ موم بتی اور گلاب کے پھول ہتھیار بنے۔ ہندوستان میں بھی گاندھی کے عدم تشدد پر مبنی تمام انقلاب منظر عام پر آئے، مثلاً ونوبا بھاوے کی بھودان تحریک، اتراکھنڈ کے جنگلات کو بچانے کا چپکو تحریک، بڑے ڈیم کی وجہ سے اجڑے ہوئے لوگوں کے لئے میدھا پاٹکر کی قیادت میں چلنے والی نرمدا تحریک اور کم زیر بحث رہے چھوٹے چھوٹے تمام انقلاب۔

آج جس وقت یہ مضمون لکھا جا رہا، ہندوستان میں مایوسی بھرے اندھیرے کے باوجود میں روشنی کی دو کرنوں کو دیکھ رہی ہوں۔ ایک امریکہ سے آتی ہے تو دوسری ہندوستان کے مذہبی شہر سے۔ 16 سال کی سیوڈش گریٹا تھنبرگ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گٹرس کی طرف سے بلائی گئی یو این کلائیمیٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی پر کارروائی کے مطالبہ کو لے کر ایک سال تک چلنے والی طلبہ تحریک کے بعد گریٹا نے سویڈش پارلیمان کے سامنے 20 اگست سے 9 ستمبر تک 2018 تک دھرنا دیا۔ اس دھرنے میں گریٹا تنہا بیٹھیں اور وہ روزانہ اسکول جانے کی بجائے دھرنے پر جا کر بیٹھ جاتی تھیں۔ اس سے حوصلہ افزا ہو کر ہر جمعہ کو اسکولی طلبا مظاہرہ کرنے لگے اور رفتہ رفتہ یہ تحریک دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اسے نام دیا گیا ’فرائڈیز فار فیوچر‘ اور اس میں حصہ لینے والے طلبا کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی۔

ادھر ہندوستان میں کچھ دن پہلے بنارس کے 11 ویں کلاس کے طالب علم آیوش چترویدی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ آیوش نے اسکول میں گاندھی پر تقریر کی تھی۔ آیوش نے اسکول میں گاندھی پر دی گئی تقریر کی شروعات یہ کہتے ہوئے کی ’کس نے کہا میں آندھی کے ساتھ ہوں، میں گوڈسے کے دور میں گاندھی کے ساتھ ہوں‘‘۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کی ویڈیو کیوں وائرل ہوئی۔ اس نوجوان نے کہا، ’’میں کہنا چاہتا ہوں کہ گاندھی سے بڑا کوئی ہندو نہیں لیکن دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ان کے ’ہے رام‘ سے ڈر نہیں لگتا کیوںکہ گاندھی سیکولرازم کی علامت تھے۔‘‘

یہ آج کے مشتعل ہندوتوا کو پوری طاقت کے ساتھ کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، جس کی وجہ سے رام کے نام پر غیر ہندووں کی لنچنگ کی جاتی ہے۔ کیا انہیں کو خوف ہے، اس کے جواب میں آیوش جس طرح کہتے ہیں، ’’جو ہوگا دیکھ لیں گے۔‘‘ اس سے صاف ہے کہ گاندھی کے نظریات کو انہوں نے کتنے صحیح معنوں میں لیا ہے۔ ’’اگر آپ کو گاندھی کے بارے میں کہنا ہے تو ایسے کہنا ہوگا کہ اثر ہو۔‘‘

کیا مجھے 21ویں صدی میں گاندھی کی موزونیت پر اور دلیل دینی کی ضرورت ہے؟

Tags: گاندھی جی بھی ہندو# ’ہے رام‘# مذاہب
Previous Post

ریلوے سیکٹر سے ملی مودی حکومت کو بری خبر جانیں کیا ہے یہ خبر؟؟

Next Post

پٹنہ میں سیلاب کی بدحالی کےلئے انتظامیہ ذمہ دار: کانگریس

Next Post
پٹنہ میں سیلاب کی بدحالی کےلئے انتظامیہ ذمہ دار: کانگریس

پٹنہ میں سیلاب کی بدحالی کےلئے انتظامیہ ذمہ دار: کانگریس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمارے چینل

https://www.youtube.com/watch?v=8PdsmgX4rdc

تازہ ترین خبر

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

بنگال بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا؟

اکتوبر 16, 2024
عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

عمران خان کے سیل میں مکمل اندھیرا ہے، باہر نکلنے کی بھی اجازت نہیں، جمائما

اکتوبر 16, 2024
ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

ہماچل پردیش: منڈی میں مسجد کا حصہ منہدم کرنے کے حکم پر عدالت کی روک

اکتوبر 16, 2024
Currently Playing

ٹیگ

#دنیا coronavirus delhi jamia milia saharanpur saudi arab shaheen bagh آر ایس ایس اتر پردیش اداکارہ امت شاہ امریکہ ایران بابری مسجد بھارت بہار بی جے پی جھارکھنڈ دلت راجستھان راہل گاندھی سپریم کورٹ لکھنؤ محبوبہ مفتی مدھیہ پردیش مرکزی حکومت مریم نواز ممبئی مودی مہاراشٹر نئی دہلی نواز شریف وزیر اعظم ٹرمپ پاکستان پی ڈی پی ڈونالڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کشمیر کم جونگ ان کیجریوال گینگسٹر ہریانہ یوگی حکومت

ہمارے بارے میں

زمرے

  • Uncategorized (86)
  • اداریہ (5)
  • اقتصادیات (5)
  • بھارت (2,458)
  • تعلیم (239)
  • دنیا (632)
  • سنیما (96)
  • سیاست (1,634)
  • صحت (89)
  • کھیل (33)
  • ملاقات (24)
  • میگژین (6)
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق
  • انگریزی
  • ہندی
  • پرائیویسی پالیسی
  • اشتہار
  • ہم سے رابطہ کریں
  • کیریئر کے
  • ہمارے متعلق

© 2021 Muslim Today.

No Result
View All Result
  • صفحئہ اول
  • بھارت
  • دنیا
  • اداریہ
  • ملاقات
  • کھیل
  • تعلیم
  • اقتصادیات
  • میگژین
  • سنیما

© 2021 Muslim Today.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist